’اسامہ کی گرفتاری اولین ترجیح ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری اب بھی امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ اسلام آباد کے دورے پر آتے ہوئے اپنے ہمراہ سفر کرنے والے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نےشبہ ظاہر کیا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اب شدت پسند تنظیموں کے عالمی آپریشن کی نگرانی نہیں کر رہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسامہ کو گرفتار کرنا امریکہ کی پہلی ترحیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ’مجھے یقین نہیں کہ اسامہ القاعدہ کے دنیا میں ہونے والے آپریشنز کی’ کمانڈ‘ کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ میں غلط ہوں۔ ہمیں نہیں پتہ‘۔ رمز فیلڈ کے اس بیان سے چند روز قبل اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر نے بھی صحافیوں سے ملاقات میں یہ باتیں کہیں تھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’مجھے شک ہے کہ اگر کسی طور پر بھی اسامہ زندہ ہیں تو وہ زیادہ تر وقت گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپنے چھپانے میں گزارتے ہوں گے‘۔ رمز فیلڈ نے کہا کہ ان کے لیے یہ امر خاصا دلچسپ ہے کہ اسامہ ایک سال سے سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ’مجھے نہیں پتہ اس کا کیا مطلب ہے‘۔ واضح رہے کہ آخری بار اسامہ بن لادن کا ٹیپ الجزیرہ پر نشر ہوا تھا جس میں انہوں نے عراقی عوام کو انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔ امریکی وزیر دفاع نے بات چیت کے دوران پاکستان کو ایک معتدل مسلمان ملک قرار دیتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف کی مکمل حمایت کی۔ امریکی وزیر دفاع نے ایک روزہ پاکستان کے دورے کے دوران مظفر آباد کا دورہ کیا اور زلزلہ زدگاں کی مدد کے لیے موجود اپنے فوجیوں سے ملاقات کی اور بعد میں کابل روانہ ہوگئے۔ رمز فیلڈ کے دورے سے محض ایک روز پہلے ہی امریکی نائب صدر ڈک چینی پاکستان میں تھے اور انہوں نے بھی جہاں زلزلے سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے اپنی مدد جاری رکھنے کا اعلان کیا وہاں صدر جنرل پرویز مشرف کے کردار کو بھی سراہا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تواتر کے ساتھ اعلیٰ امریکی حکام کے دورے صدر جنرل پرویز مشرف کے لیے ایک لحاظ سے باعثِ تقویت ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی ساڑھے آٹھ سو کے قریب امریکی فوجی پاکستان میں ہیں اور بحالی کے کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ امریکہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور امداد دینے والا ایک بڑا ملک ہے۔ | اسی بارے میں حمزہ کی ہلاکت، تصدیق سے انکار05 December, 2005 | پاکستان ڈک چینی کا دورۂ مظفرآباد20 December, 2005 | پاکستان ڈونلڈ رمزفیلڈ پاکستان پہنچ گئے13 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||