’مزاحمت کا صحیح اندازہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا ہے کہ امریکہ کہ پاس اس بات کا کوئی قابل اعتبار اندازہ نہیں ہے کہ عراق میں مزاحمت کس پیمانے پر ہو رہی ہے۔ رمزفیلڈ نے امریکی کانگریس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس انٹیلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹس آئی ہیں جن میں الگ الگ اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان میں سے کسی پر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ عراق میں اس وقت ڈیڑھ لاکھ کے قریب امریکی فوج موجود ہے جو وہاں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور مزاحمت کو فرو کرنے میں مصروف ہے۔ رمزفیلڈ نے کہا کہ انہیں امریکی سی آئی اے، پینٹاگن اور عراقی خفیہ ایجنسی نے اپنی رپورٹس بھیجی ہیں لیکن وہ کسی کو بھی کلی طور پر قابل اعتبار نہیں سمجھتے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان رپورٹس میں کیا اندازے لگائے گئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے کیونکہ یہ معلومات خفیہ نوعیت کی ہیں۔ عراقی جنرل محمد عبداللہ شہوانی نے حال ہی میں کہا تھا کہ عراق میں دو لاکھ کے لگ بھگ مزاحمت کار سرگرم ہیں اور ان میں سے چالیس ہزار انتہائی سخت درجہ کے ہیں۔ جبکہ امریکی جنرل رچرڈ مائر نے ان اعداد وشمار کو خاصے کم بتایا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||