’ملکی خوشحالی میں رخنہ ڈالا جارہا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کے بیانات کے ساتھ ساتھ عراق، بلوچستان اور پاک بھارت بات چیت اخبارات کے بڑے موضوعات چلتے آ رہے ہیں لیکن اب ایران اور امریکہ کے تعلقات بھی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ جنگ، خبریں اور ڈان نے منگل کو صدر مشرف کے جامشورو کے خطاب کو شہ سرخیوں سے شائع کیا ہے۔ جنگ کے مطابق صدر مشرف نے کہا کہ ملکی خوشحالی روکنے کے لیے غیر اہم معاملات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ڈان کی شہ سرخی ہے کہ صدر مشرف نے کہا کہ سندھ کی خوشحالی کے لیے بڑے ڈیمز بنانا لازمی ہے۔ خبریں کہتا ہے پنجاب نے ہمیشہ سندھ کے لیے قربانی دی اور بڑے ڈیم نہ بنے تو ملک کو بہت نقصان ہوگا۔ ڈیلی ٹائمز اور نوائے وقت نے صدر مشرف کے خطاب کے دوسرے پہلو کو نمایاں کیا ہے جس میں نوائے وقت کے مطابق صدر نے کہا کہ مساجد اور مدرسوں سے نفرت کا پرچار بند ہونا چاہیے اور یہ کہ ایک اقلیتی گروہ اعتدال پسند اکثریت پر اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ نوائے وقت اور ڈیلی ٹائمز نے وزیراعظم شوکت عزیز کے لندن میں دیئے گئے ان بیانات کو اپنی بڑی خبر بنایا ہے جس میں نوائے وقت کے بقول وزیراعظم نے کہا کہ وہ اعتماد سازی کے فروغ کے لیے بھارت کو مشترکہ منصوبوں کی تجویز دیں گے جس سے کشمیر جیسے تنازعات پر کشیدگی کم ہوگی۔ ڈیلی ٹائمز نے فنانشل ٹائمز کو دیئے گئے شوکت عزیز کے انٹرویو کے حوالے سے لکھا ہے کہ دلی اور اسلام آباد اعتماد بڑھانے کے مختلف اقدامات پر رضامند ہوسکتے ہیں اور انہیں کشمیر کے مرکزی تنازعہ کے حل کا یرغمال بننے کی ضرورت نہیں۔ روزنامہ پاکستان نے اس خبر کو اپنی شہ سرخی بنایا ہے کہ دریائے نیلم پر بنائے جانے والے کشن گنگا پراجیکٹ پر پاک بھارت مذاکرات نو فروری کو ہوں گے۔ اخبار کے مطابق اس منصوبے پر پہلی دوطرفہ بات چیت نومبر سنہ دو ہزار چار کو ہوئی تھی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ میں ایک بائیس کلومیٹر لمبی سرنگ بھی شامل ہے جس پر پاکستان کو اعتراض ہے۔ کراچی میں حکمران جماعت مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی پریس کانفرنس سب ہی اخباروں نے نمایاں طور پر شائع کی ہے۔ دی نیشن کی سرخی ہے کہ شجاعت حسین نے کہا کہ سوئی اور ڈیرہ بگتی سے فوجی چوکیاں ہٹا دی گئیں۔ تاہم خبریں کی سرخی ذرا مختلف ہے۔ اخبار یہ بھی کہتا ہے کہ شجاعت حسین نے کہا کہ سوئی (ڈیرہ بگتی) سے چوکیاں ختم کر دی جائیں گی۔ اخبار نے یہ خبر بھی دی ہے کہ اکبر بگتی سے رابطے کے لیے شجاعت حسین نے غلام مصطفٰے جتوئی اور الٰہی بخش سومرو سے ملاقاتیں کیں۔ الٰہی بخش کا جنگ میں بیان شائع ہوا ہے کہ وہ بلوچستان کے مسئلہ پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف جنگ اور پاکستان نے بلوچ رہنما اکبر بگتی کی صحافیوں سے یہ گفتگو بھی شائع کی ہے کہ وہ حالت جنگ میں ہیں اور دفاعی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔ وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپاؤ کا کوئٹہ سے یہ بیان شائع ہوا ہے کہ تنصیبات کی حفاظت کے لیے بلوچستان میں جب تک ضرورت پڑی سیکیورٹی فورسز موجود رہیں گی۔ عراق کے انتخابات کی خبروں کو اخباروں پر زیادہ جگہ نہیں دی گئی اگرچہ دی نیشن نے سرخی جمائی ہے کہ شیعہ آٹھ صدیوں بعد عراق میں حکومت بنائیں گے۔ تاہم ڈان اور ڈیلی ٹائمز نے اس موضوع پر اداریے لکھے ہیں۔ ڈان کہتا ہے کہ امریکہ خوش قسمت ہوگا اگر یہ نظام کام کر جائے۔ اب تک تو امریکہ بھی انتخابات کے بعد کے منظرنامہ کے بارے میں پُریقین نہیں۔ ڈان کا کہنا ہے کہ صرف آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا عراق میں جمہوری نظام جڑ پکڑتا ہے؟ اخبار کا کہنا ہے کہ انتخابات کا انعقاد ایک اچھا نقطہ آغاز ہے۔ ڈیلی ٹائمز نے عراقی انتخابات پر اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ عراقی الیکشن میں ستاون فیصد ووٹروں کا ووٹ ڈالنا اطمینان بخش ہے۔ تاہم اخبار کا موقف ہے کہ امریکہ کو اس بات کو محسوس کرنا چاہیے کہ انتخابات کی ساکھ عراق کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے جس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ عراق سے تمام غیر ملکی اور خاص طور پر امریکی فوجیں چلی جائیں۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے اب اخبارات زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ ڈان نے ایرانی حکومت کا یہ بیان صفحہ اول پر شائع کیا ہے کہ یورینیم کی افزودگی کو مختصر مدت کے لیےمنجمد کیا گیا ہے۔ دی نیشن نے امریکہ کی نئی سیکریٹری آف سٹیٹ کنڈولیزا رائس کے اس بیان کو ہیڈلائن بنایا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی خارج از امکان نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||