عراق اور بلوچستان چھائے ہوئے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق اور بلوچستان آج کے اخباروں پر چھائے ہوئے ہیں تاہم وزیراعظم شوکت عزیز کے دورہ بیلجئم کو بھی اخبارات نے نمایاں کوریج دی ہے۔ اخباروں نے سیالکوٹ جیل کے ملزم پولیس افسروں کی لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر فرار ہوجانے کو بھی خاصی اہمیت دی ہے۔ بلوچستان کے معاملہ پر صدر جنرل پرویز مشرف نے جس اعلی سطحی اجلاس کی بدھ کے روز صدارت کی اس کے رپوٹ کو اثر اخباروں نے شہ سرخیوں سے شائع کیا ہے۔ اکثر اخباروں نے ایک جیسی باتیں شائع کیں ہیں جو اس اجلاس کے بعد حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین نے پریس بریفنگ میں بتائیں۔ روزنامہ پاکستان کہتا ہے صدر پرویز مشرف نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں تمام ترقیاتی میگا پراجیکٹس ہر حالت میں مکمل کیے جائیں گے اور اس حوالے سے کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر مشرف نے یہ بھی کہا کہ بلوچوں کی جائز شکایات دور کی جائیں گی اور بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل کیا جائے گا۔ تین انگریزی اخباروں ، ڈیلی ٹائمز ، دی نیشن اور دی نیوز نے اس بات کو اپنی شہ سرخی بنایا ہے کہ سوئی میں فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل مظہر مسعود کے مطابق فوج سوئی کے پاس چھاؤنی قائم کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے چار سو ایکڑ زمین بھی حاصل کرلی ہے۔ فوجی افسر کا کہنا ہے کہ سوئی میں اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے یہ چھاؤنی بنانا ضروری ہے۔ نوائے وقت نے آج بلوچستان کی صورتحال پر تفصیلی اداریہ لکھا ہے۔ اخبار کا موقف ہے کہ چودھری شجاعت سین کو یہ تاثر دور کرنا چاہیے کہ فوج آپریشن کرنے پر تلی ہوئی ہے جبکہ وہ خود فیصلہ ساز قوتوں کے سامنے بے بس ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں فوجی آپریشن پاکستان کو ایسی دلدل میں دھکیل دے گا جس سے نکلنا مشکل بلکہ نا ممکن ہوسکتا ہے۔ نوائے وقت کہتا ہے کہ اگر ہم بھارت کے ساتھ ناقابل یقین قسم کے اقدامات کر سکتے ہیں تو اپنے ہی ملک کے اہم صوبہ اور اس کی سیاسی قیادت کے سات اعتماد کی بحالی کے اقدامات سے گریز کیوں؟ دوسری طرف آج دی نیشن نے یہ خبر دی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خفیہ سفارت کاری کا اگلا مرحلہ جلد اور سارک سربراہ کانفرنس سے پہلے شروع ہونے والا ہے جس کے لیے صدر مشرف کے قریبی معتمد طارق عزیز اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نرائن کے درمیان ملاقات ہوگی۔ ڈان کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے کابینہ کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے بجلی کی قیمتیں کنٹرول کرنے والے ادارہ نیپرا کے کردار کو از سر نو متعین کرنے کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی بنادی ہے جس کے سربراہ وزیر بجلی و پانی لیاقت جتوئی ہوں گے اور جو ایک ماہ میں اپنی رپورٹ دے گی۔ اس کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا ہے۔ ڈان نے لاہور سے ایک خبر یہ بھی دی ہے کہ ہاؤسنگ کا محکمہ اس تجویز پر غور کررہا ہے کہ ایک ایسا قانون متعارف کرایا جائے جس کے تحت تمام مکینوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے مکانوں کے باہر درخت لگائیں۔ دی نیوز نے اسلام آباد سے خبر دی ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے وی وی آئی پی شخصیات کے لیے لگژری کاروں کی خرید پر لگائی گئی پابندی اپنے صوبدیدی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اٹھا لی ہے اور اب تیس مرسڈیز بینز اور بیس لینڈ کروزر کاریں اربوں روپے سے خریدی جارہی ہیں۔ خبریں اخبار نے جدہ میں مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد کی سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے حوالہ سے یہ خبر دی ہے کہ مجلس عمل سرحد اور بلوچستان میں حکومتیں چھوڑنے پر رضا مند ہوگئی ہے اور صدر مشرف کے خلاف تحریک چلانے کے لیے لائحہ عمل چند روز میں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||