 |  مبصرین کا کہنا ہے کہ دھماکوں کا تعلق گزشتہ روز حکومت کے اس اعلان سے ہو سکتا ہے کہ سوئی میں فوجی چھاؤنی کے لیے ارآضی حاصل کر لی گئی ہے |
بدھ کی رات پاکستان میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں راکٹوں اور بم دھماکوں سے خوف ہ ہراس پھیل گیا لیکن ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ صحافی ایوب ترین کی اطلاع کے مطابق راکٹ کا پہلا فائر بدھ کو رات دس بج کر پندرہ منٹ پر کوئٹہ کے مغربی پہاڑی علاقے سے ہوا۔ یہ راکٹ کوئٹہ چھاؤنی کے علاقے میں واقع عسکری پارک میں آ کر گرا۔ اس راکٹ کے گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ سردی اور برفباری کی وجہ سے پارک میں کوئی موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد اس علاقے سے پندرہ کلو میٹر دور مسکاک کے علاقے میں ایک اور راکٹ فائر کیا گیا، یہ راکٹ بجلی کے ایک کھمبے کو لگا اور اس کے نتیجے میں مسکاک کو بجلی کی فراہمی بند ہو گئی۔ اس راکٹ کے فائر ہونے کے تقریباً پانچ منٹ بعد ایک اور بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں اب تک کسی جانی نقصان کے اطلاع نہیں ہے۔ اس کے بعد رات کے تقریباً ساڑھے بارہ بجے سبی شہر میں بجلی گھر کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا تاہم اس میں بھی کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کوہلو اور ڈاڈر سے بھی راکٹ فایر کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ رات گئے تک کسی نے راکٹ فائرنگ اور بم دھماکوں کے ذمہ داری قبول نہیں کی تھی تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ یہ گزشتہ روز کیے جانے والے حکومت کے اس اعلان کا ردِ عمل ہو سکتے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے سوئی میں چھاؤنی قائم کرنے کے لیے چار سو ایکڑ زمین حاصل کر لی ہے۔ |