القاعدہ کی مشکل میں اضافہ: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ القاعدہ تنظیم کی فنڈنگ روکنے کے لیے کی گئی عالمی کوششیں کارگر ثابت ہو رہی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے اسسٹینٹ سیکریٹری ژوان زاراتے کے مطابق اب القاعدے کے لیے اپنے نیٹ ورک کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تک دنیا بھر میں القاعدہ تنظیم اور افغانستان کی سابق حکمران جماعت طالبان سے تعلق رکھنے والے افراد کے پندرہ کروڑ ڈالر کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات نیو یارک میں اقوام متحدہ کی اس کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو ان دونوں تنظیموں پر عائد کی گئی مالیاتی پابندیوں پرعمل درآمد کی نگرانی کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال القاعدہ پر عائد کی جانے والی پابندیاں غیر موثر ثابت ہوئی ہیں۔ مسٹر زاراتے نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اب القاعدہ کے لیے رقوم اکٹھی کرنا اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا زیادہ مشکل، مہنگا اور خطرناک ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں سے حاصل ہونے والی اہم ترین کامیابی ان افراد اور تنظیموں کی نشاندہی ہے جو القاعدہ اور طالبان کی مالی مدد کرتی ہیں۔ تاہم انہوں نے ان ملکوں کے نام نہیں بتائے جنہوں نے دونوں تنظیموں کے اثاثے منجمد کیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||