واپسی کا سفر شروع: ہیلری کلنٹن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسے جیسے نتائج سامنے آرہے تھے، ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی مہم کے بڑے منتظمین میں سے ایک، سینیٹر چارلس شومر کے لیے پر جوش کارکنوں کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ ’ہم نے ابھی جشن منانا شروع نہیں کیا‘ شومر واشنگٹن میں خوشی سے بے قابو ہوئے جاتے کارکنوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن ہیلری کلنٹن کی نیویارک سے دوبارہ سینیٹر منتخب ہونے کی خبر نے ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنوں کو فتح کا یقین دلا دیا۔ جیتنے کے بعد ہیلری کلنٹن نے اپنے پیغام میں کہا ’ہم نے یہ بتا دیا ہے کہ ریاست کے طور پر ہم کیا ہیں اور ہمیں اپنے ملک پر کتنا یقین ہیں، آج سے (اقتدار میں) ہماری واپسی کا آغاز ہو چکا ہے، آپ سب کا بہت شکریہ، آپ کے لیے، نیو یارک کے لیے اور امریکہ کے لیے نیک تمنائیں‘۔ ’عراق پالیسی میں تبدیلی‘ ہیلری کلنٹن کے خطاب کے کچھ دیر بعد سینیٹ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ ہیری ریڈ نے ایوان نمائندگان میں اپنی پارٹی کی جیت کے بارے کہا ’ہماری طرح امریکہ بھی اس نتیجے پر پہنچ گیا ہے کہ ہمیں عراق میں اپنی پالیسی کی سمت بدلنا ہوگی‘۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کے کرتا دھرتا بار بار عراق اور تبدیلی کا ذکر کر رہے ہیں۔ ایوان نمائندگان کی متوقع سپیکر نینسی پیلوسی کا کہنا ہے ’موجودہ راستہ (عراق میں) تباہی کا ہے‘ لیکن ان کا کہنا تھا ’ہم حل تلاش کرینگے نا کہ (قصورواروں کے)
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ہم قیادت کرنے کے لیے تیار ہیں اور ایسا ہم کانگریس میں ریپبلیکنز اور انتظامیہ کی شراکت سے کرینگے نا کہ جانبداری سے‘۔ ڈیموکریٹس کے لیے نئے اختیار صدر جارج ڈبلیو بش کے لیے ایوان نمائندگان میں شکست ایک بڑا دھچکا ہے۔ وہ بدھ کی شام اپنا بیان جاری کرینگے۔ لیکن ریپبلیکن پارٹی کے چیئرمین کین مہلمین کا کہنا ہے ’ہمیں اصولوں کو مدنظر رکھنا ہے اور کوشش کرنی ہے کہ دونوں جماعتیں ان اصولوں پر کاربند رہنے کے لیے مل کر کام کریں‘۔ لیکن ’وائٹ ہاؤس‘ کے لیے پریشانی کی بات یہ ہے کہ ایوان نمائندگان میں اکثریت سے ڈیموکریٹس کو ہر کمیٹی کی صدارت حاصل ہو جائے گی اور قانون سازی کا اختیار بھی۔ اس اختیار کا وہ کیا استعمال کر سکتے ہیں؟ مثلاً کیا وہ صدر بش کا مؤاخذہ کرینگے؟ یا پھر قیادت کے بارے نینسی پیلوسی کے بتائے ہوئے مقصد پر ہی اکتفا کرینگے؟
قرین قیاس یہ ہے کہ وہ نینسی کے کہے پر عمل کرینگے۔ زیادہ تر جیتنے والے ڈیموکریٹس معتدل مزاج ہیں، بلکہ بعض تو بنیاد پرست بھی ہیں جو کوئی نظریاتی لڑائی نہیں لڑنا چاہیں گے۔ ’نئی قیادت کی تلاش‘ ڈیموکریٹک پارٹی کی ابھرتی ہوئی نئی قیادت میں نمایاں بیرک اوباما کا کہنا ہے ’نتائج بتاتے ہیں کہ امریکی عوام اس دفعہ سنجیدہ ہیں، انہوں نے ان مسائل کو تسلیم کیا ہے جن کی ہم نشاندہی کرتے آئے ہیں اور وہ پر امید ہیں کہ ڈیموکریٹک قیادت ان توقعات پر پورا اترے گی جن کے حوالے سے وہ کانگریس اور وائٹ ہاؤس کی موجودہ قیادت سے مایوسی کا شکار ہیں‘۔ | اسی بارے میں ایوان نمائندگان، ڈیموکریٹس کے پاس08 November, 2006 | آس پاس امریکی عوام کی فتح، بش کی مایوسی08 November, 2006 | آس پاس صدر بش کی مقبولیت داؤ پر07 November, 2006 | آس پاس وسط مدتی انتخابات اور دو امریکی ووٹر05 November, 2006 | آس پاس نیٹو کمک کی کوئی پیشکش نہیں14 September, 2006 | آس پاس افغانستان:’ناکام ہوجانے کا خدشہ‘13 September, 2006 | آس پاس ’امریکی پالیسی سے تشدد میں اضافہ‘03 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||