BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 November, 2006, 00:33 GMT 05:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر بش کی مقبولیت داؤ پر

امریکی ووٹر
صدر جارج بش نے انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیا ہے۔
سات نومبرکے انتخابات میں صدر بش کی ریپبلیکن پارٹی کی مقبولیت داؤ پہ لگی ہوئی ہے۔ بعض ڈیموکریٹ اسے صدر بش کی عراق پالیسی پر ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں۔
مبصرین دلچسپی سے یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان انتخابات کے نتیجہ میں دو ہزار آٹھ کے صدارتی الیکشن کے لیے کس جماعت کے کونسے امیدوار سامنے آنا شروع ہوتے ہیں۔

لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک اس بار ایک لحاظ سے کانگریس کا اپنا آئینی کردار بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ صدر بش کے پچھلے چھ برسوں کے دوران ریپبلیکن اکثریت والی کانگریس نے ان کی تقریباً ہر پالیسی کی حمایت ہی کی ہے۔ اسی لیے امریکیوں کی بڑی تعداد موجودہ کانگریس کے کردار کے بارے میں مثبت رائے نہیں رکھتی۔

اگر ڈیموکریٹس واقعی جیت جاتے ہیں تو آنے والے دنوں میں صدر بش کو اپنی پالیسوں کے فروغ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جس میں ان کی عراق پالیسی پر سب سے زیادہ بحث اور سوال اٹھنے کی توقع ہے۔

عموماً کانگریس کے انتخابات میں لوگوں کی دلچسپی صدارتی الیکشن سے کم ہوتی ہے۔ لیکن اس بار کہا جا رہا ہے کہ توقع سے زیادہ لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلیں گے۔ ان انتخابات میں عراق کے معاملے پر امریکی ووٹروں کی بظاہر بے چینی داخلی موضوعات پر چھائی رہی ہے۔

سات نومبر کے دن امریکی عوام ایوانِ نمائندگان کے چار سو پینتیس اراکین اور ایوانِ بالا کے ایک تہائی یعنی سو میں سے تینتیس اراکین کا انتخاب کر رہے ہیں۔

ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اپنا پلڑا بھاری کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں مزید پندرہ جبکہ سینٹ میں مزید چھ نشستیں جیتنا ضروری ہے۔ جبکہ اس مرتبہ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے چھتیس ریاستوں میں گورنر کے عہدے کے لیے بھی مقابلہ ہو رہا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان میں مختلف ریاستوں کو آبادی کے تناسب سے نشستیں دی جاتی ہیں اور اراکین کا انتخاب ہر دو سال بعد کیا جاتا ہے۔ سینٹ میں آبادی کے تناسب سے ہٹ کر ہر ریاست کے دو نمائندے بیٹھتے ہیں۔ سینیٹر کے عہدے کی معیاد ویسے تو چھ سال ہے لیکن سینٹ کے ایک تہائی اراکین کو ہر دو سال بعد دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان انتخابات کو وسط مدتی اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ انتخابات امریکی صدر کے چار سالہ صدارتی عرصے کے وسط میں آتے ہیں۔ امریکی نظامِ حکومت میں یہ یقینی بنانا کی کوشش کی گئی ہے کہ اختیارات کی مرکزیت کسی ایک شخص یا ادارے کے پاس نہ ہونے پائے اور ریاست کے اھم ستون ایک دوسرے پر چیک اینڈ بیلنس رکھیں۔ یوں کانگریس کا بڑا کام قانون سازی کرنا اور صدر کے اقدامات پر بھی نظر رکھنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد