BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی پالیسی سے تشدد میں اضافہ‘
محمد خاتمی
1979 کے بعد سے محمد خاتمی امریکہ کا دورہ کرنے والی سینیئر ترین ایرانی شخصیت ہیں۔
ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے امریکی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دعویٰ تو کرتا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے لیکن وہ ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جس سے دہشگردی اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ بات انہوں نے شکاگو میں امریکی مسلمانوں کے ایک سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔’نارتھ امریکن اسلامک سوسائٹی‘ کی طرف سے منعقد کی جانے والی اس تین روزہ کانفرنس میں کینیڈا اور امریکہ بھر سے ہزارہا مسلمان شریک ہیں۔

کانفرنس میں محمد خاتمی کی تقریر کا سب سے زیادہ انتظار کیا جا رہا تھا۔ مائیکروفون سنبھالنے کے تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے مغربی ذرائع ابلاغ میں اسلام کو پیش کرنے کے انداز پر کھلے الفاظ میں تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا: ’ جو اسلام ذرائع ابلاغ میں پیش کیا جا رہا ہے وہ اسلام کے بارے میں ایک یکطرفہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں اسلام کو نہایت منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’سیاسی اسلام کے عنوان کے تحت جو اسلام مغرب میں پیش کیا جاتا ہے وہ محض تخیلاتی ہے اور جو اسلام و مشرق کو تاریک اور غلط رنگ میں پیش کرتا ہے۔‘

مغربی طاقتوں کے رویے کے بارے میں پائی جانے والی عمومی سوچ محمد خاتمی کی تقریر کا خاص موضوع تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے ہم ایسی پالیسیوں میں اضافہ دیکھ رہے ہیں جن کا مقصد دنیا کو زیر تسلط کرنے کے لیئے عوامی رائے کو دبا کرامریکہ کی ریاستی طاقت اور امریکی قوم کو استعمال کرنا ہے۔‘

محمد خاتمی کا کہنا تھا کہ نہایت طاقتور مغربی ممالک دنیا کے مسائل حل کرنے کا دم تو بھرتے ہیں لیکن پالیسیاں بناتے وقت اس سوچ کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔

سنہ انیس سو اناسی میں ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات خراب ہونے کے بعد سے محمد خاتمی امریکہ کا دورہ کرنے والی سینیئر ترین ایرانی شخصیت ہیں۔

امریکی دفتر خارجہ نے انہیں جو وزٹ ویزا دیا اس میں کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ دفتر خارجہ کے اس اقدام سے امریکہ کے کئی یہودی گروپ اور قانون ساز ناخوش ہیں۔

توقع ہے کہ اپنے دورے کے دوران محمد خاتمی واشنگٹن جانے کے علاوہ اقوام متحدہ اور ہارورڈ یونیورسٹی کی تقاریب میں بھی شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد