| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خاتمی کی اسرائیلیوں سے بات
ایران کے صدر خاتمی نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کا پرامن حل چاہتے ہیں۔ ایران کےصدر نے یہ بات سویٹرزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں پریس کانفرنس کے دوران ایک اسرائیلی اخبار نویس کے سوال کے جواب میں کہی جس کوایرانی صدر کی طرف سے پہلی دفعہ کسی اسرائیلی سے براہ راست بات چیت یا رابط قرار دیا جا رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل ایک دوسرے کے روائتی دشمن ہیں اور ایران کو تباہ کرنے کی بات کرتا رہا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں ایک اسرائیلی اخبار سے تعلق رکھنے والے نامہ نگار نے صدر خاتمی سے پوچھا کہ کن حالات کے تحت اسرائیل کے وجود کو تسلیم کریں گے۔ اخبار کے مطابق خاتمی اسرائیلی اخبار کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر کچھ مضطرب دکھائی دیے تاہم انہوں نے تحامل سے اس سوال کا جواب دیا۔ ڈیوس میں موجود عرب اخبار نویس صدر خاتمی کو اسرائیلی اخبار نویس کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ خاتمی نے کہا کہ ایران کو اسرائیل کے ساتھ اخلاقی اختلاف ہے اور وہ ہے فلسطین پر قبضے کی وجہ سے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||