BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 November, 2006, 23:24 GMT 04:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اردن میں بش اور المالکی کی ملاقات
 صدر بش اور شاہ عبداللہ
صدر بش اور نوری المالکی ملاقات سے قبل امریکی میمو اخباروں کے ہاتھ لگ گیا جس میں عراقی وزیرِ اعظم پر شکوک کا اظہار کیا گیا ہے
امریکی صدر جارج بش عراقی وزیرِ اعظم نوری المالکی سے اردن میں ملاقات کر رہے ہیں جس میں عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کو کنٹرول کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعرات کی صبح ہونے والی یہ ملاقات بدھ کی رات کوہونی تھی لیکن پہلے سے طے شدہ یہ ملاقات التواء کا شکار ہوگئی تھی۔

امریکی صدر اور عراقی وزیرِ اعظم دونوں اردن میں ہیں اور انہوں نے عراق کے مسئلے پر اردن کے شاہ عبداللہ کے ساتھ بھی تبادلۂ خیال کیا ہے۔

صدر بش اور نوری المالکی کے درمیان بدھ کی ملاقات کے ملتوی ہونے سے قبل یہ خبریں آئیں تھیں کہ عراق میں مقتدیٰ الصدر کے حامی سیاسی گروپ نے اس میٹنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے اشتراک معطل کر دیا ہے۔

اسی دوران ایک امریکی میمو (دستاویز) اخبارات کے ہاتھ لگ گیا ہے جس میں نوری المالکی کے بارے میں شکوک کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کےمطابق بدھ کو ہونے والی ملاقات میں تبدیلی کی وجہ یہ تھی کہ نوری المالکی پہلے ہی شاہ عبداللہ سے مل چکے تھے۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ صدر بش سے ملنے سے قبل عراقی وزیرِ اعظم کی شاہ عبداللہ سے ملاقات نہ صدر بش کے خلاف غصے کا اظہار ہے اور نہ ہی اخبارات میں شائع ہونے والے امریکی میمو کے خلاف احتجاج۔

نامہ نگاروں نے بتایا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کے وفادار رہنماؤں نے عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کو حکومت سے شرکت ختم کرنے کی دھمکی چار روز پہلے دی تھی۔

بدھ کو امریکی صدر اور عراقی وزیرِ اعظم کے درمیان متوقع ملاقات کی خبروں کے تناظر میں کابینہ کے پانچ وزراء اور پارلیمان کے تیس ارکان نے عراقی حکومت سے اپنی شرکت ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

مقتدیٰ الصدر کے ایک وفادار رکنِ پارلیمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم نوری المالکی عراقی پارلیمان سے اجازت لیے بغیر اردن پہنچے ہیں اور یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

ایک اور رکن پارلیمان صالح الاوکیلی نے حکومت سے اپنی شرکت ختم کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا: ’یہ ملاقات عراق کی خود مختاری کے خلاف ہے کیونکہ مجرم جارج بش عراق کی نمائندگی نہیں کرتا حالانکہ اس کی فوج عراق پر قابض ہے۔‘

صالح الاوکیلی نے کہا: ’وزیر اعظم المالکی کو جارج بش سے ملاقات کرنے کی بجائے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ عراق سے اِن فوجوں کو نکالا جائے نہ کہ انہیں روکنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے ہمیں یہ موقف اختیار کرنا پڑا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس فیصلے کے خلاف قانونی کارووائی کرے گی جس کے تحت عراق میں اتحادی افواج کو دو ہزار سات تک رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے حکومت میں شرکت ختم کرنے کے فیصلے سے نوری المالکی کی حکومت کو کافی دھچکا لگےگا۔

مبصرین کے مطابق جمعرات کو صدر بش اور نوری المالکی کے درمیان متوقع ملاقات میں عراق میں سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے امور کے تجزیہ نگار راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کو کامیاب قرار دینے کے لیے، امریکی صدر اور عراقی وزیر اعظم کو ایک دوسرے کو، اور باقی دنیا کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کے پاس عراق کے سکیورٹی مسائل بہتر کرنے کا حل موجود ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد