طالبانی نے ایران سے مدد مانگ لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے صدر جلال طالبانی اپنے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے ایران سے مدد طلب کی ہے۔ جلال طالبانی نے یہ درخواست ایران کے دارالحکومت تہران پہنچنے کے فورا بعد ایک بیان کے ذریعے کی ہے۔ ایرانی صدر احمدی نژاد نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں عراق کی ہر ممکنہ مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دونوں ملکوں کےصدر عراق میں صورت حال بہتر کرنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ جلال طالبانی گزشتہ ہفتے کے دوران ایران کا دورہ کرنے والے تھے، لیکن بغداد میں بم دھماکوں کے بعد انہیں اپنے پروگرام میں ردوبدل کرنا پڑا تھا۔ عراقی صدر اپنے ایرانی ہم منصب ملاقات کے علاوہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کرینگے۔ عراقی صدر کے ایران دورے پر پورے مشرقی وسطیٰ کی نظر ہے اور اس سے بہت سی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔ امریکہ میں حال ہی میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد بش انتظامیہ عراق میں حکمت عملی تبدیل کرنے کے مراحل میں ہے۔ صدر بش اور عراقی صدر کے درمیان جلدی ہی اردن میں ملاقات ہونے والی ہے اور یہ دورہ اسی ملاقات کی تیاریوں کے لیے ہے۔ اسی دوران اقوام متحد کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے خبر دار کیا ہے کہ عراق میں خانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کوفی عنان نے کہا کہ عراق میں تقریبا خانہ جنگی کی صورت حال ہے اور اگر عراق کے بگڑتے حالات پر فوراً قابو نہ پایا گیا تو پھر ملک میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔ | اسی بارے میں بش، نور المالکی سے ملیں گے 22 November, 2006 | صفحۂ اول عراق نے امریکی رپورٹ رد کردی03 June, 2006 | صفحۂ اول عراق: متعدد دھماکے،66 ہلاک12 March, 2006 | صفحۂ اول ’عراق صورتحال جنگ سے بدتر‘28 February, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||