بش، نور المالکی سے ملیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش عراق کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے لیے عراق کے وزیراعظم نور المالکی سے ملاقات کے لیے آئندہ ہفتے اردن جائیں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات ان سفارتی کوششوں کے لیے ہو رہی ہے کہ عراق میں حاالات کو کیسے بہتر کیا جائے۔ عراق کے صدر جلال طالبانی اس ہفتے کے اواخر میں ایران کا دورہ کریں گے۔ حال ہی میں شام کے وزیر خارجہ ولید معلم نے بغداد کا دورہ کیا تھا۔ صدر بش یورپ میں نیٹو کی ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد اردن جائیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی اسنو نے کہا ہے کہ بش اور نورالمالکی عراق کے متعلق بات چیت کریں گے۔ ترجمان کے بیان کے مطابق اس بات پر غور کیا جائےگا کہ عراقی سکیورٹی کو ذمہ داریاں کیسے سنبھالیں اور حالات بہتر کرنے کے لیے پڑوسی ممالک سے کیا مدد لی جائے۔ صدر بش اور نور المالکی کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہورہی ہے جب تمام کوششوں کے باوجود عراق میں تشدد پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ اس ملاقات میں اس بات پر بھی گفتگو کا امکان ہے کہ عراق میں شام اور ایران کا کیا کردار ہو۔ درمیانی مدت کے انتخابات میں نا کامی کے بعدصدر بش پر اس بات کا زبردست دباؤ ہے کہ وہ عراق کے بارے میں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں اور مسائل کے حل کے لیے ایران اور شام سے بھی بات چیت کی جائے۔ | اسی بارے میں عراق کے صدر کو ایران کی دعوت21 November, 2006 | آس پاس عراق، شام تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ21 November, 2006 | آس پاس امریکہ عراق میں پھنس چکا ہے: عنان22 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||