عراق کے صدر کو ایران کی دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں استحکام کے لیے ایران اور شام کو شامل کرنے کی کوشش بظاہر اب رو بہ عمل ہوتی نظر آ رہی ہے اور عراق کے صدر جلال طالبانی ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کی دعوت پر ان سے بات چیت کے لیے ہفتے کے روز ایران جائیں گے اور متوقع طور پر اس بات چیت کا محور عراق کی سلامتی کی صورتحال ہوگی۔ اطلاعات ہیں کہ ممکنہ طور پر شام کے صدر بشار الاسد بھی اس بت چیتمیں شامل ہوں گے تاہم ابھی اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ادھر شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے دو ہزار تین کے بعد اپنے پہلے دورۂ عراق میں وزیر اعظم نور المالکی اور صدر طالبانی اور دیگر سیاستدانوں سے بات چیت کی ہے۔ دریں اثنا انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے صدام حسین کے مقدمے کو غیر منصفانہ قرار دیے جانے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی منصفانہ تھی اور صدام حسین کو اپنے دفاع کا مکمل حق تھا جبکہ عدالت کی کارروائی تمام دنیا نے دیکھی۔ | اسی بارے میں ’شام اورایران اپنا کردار ادا کریں‘13 November, 2006 | آس پاس بلیئر: ایران اور شام بات کی جائے13 November, 2006 | آس پاس شام اورایران سے کوئی نرمی نہیں14 November, 2006 | آس پاس احمدی نژاد شام کے دورے پر19 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||