احمدی نژاد شام کے دورے پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد دو روزہ دورے پر شام پہنچ رہے ہیں۔ وہ یہ دورہ ایسے وقت کر رہے ہیں جب ایک طرف مغربی ممالک ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر پابندیاں لگانے پر غور کرہے ہیں تو دوسری طرف شام پر مقتول لبنانی وزیرِاعظم رفیق حریری کے قتل میں شامی حکام کے ملوث ہونے کی اطلاعات کی چھان بین کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماضی میں بھی عراق کے سابق صدر صدام حسین کے دورِ حکومت میں شام اور ایران عراق کی مخالفت میں ایک رہے ہیں اور یہ دونوں ممالک لبنان کی مزاحمتی جماعت حزب اللہ کے بھی حامی ہیں۔ لبنان میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایران اور شام کے صدور اب اتحادی بن چکے ہیں کیونکہ اب دنیا کے سیاسی افق پر ان کا ساتھ دینے کے لیے اور کوئی موجود نہیں ہے۔ دریں اثناء ایران کے اعلٰی مذاکرات کار علی لاری جانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے لیے تیار ہے۔ لاری جانی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں بین الاقوامی برادری کی اس تشویش پر بات کرنے کو تیار ہیں کہ ایران مبینہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں ضمانت دے سکتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||