شام میں بغاوت ضروری ہے: خدام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کے سابق نائب صدر عبدالحلیم خدام نے ایک عربی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں عوامی بغاوت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صدر بشرالاسد کی حکومت کے خاتمے کے متعلق ’الشرق الاوسط‘ اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کے لیے اندرونی دباؤ کی ضرورت ہے۔ جمعرات کو دیے گئے اس بیان میں انہوں نے کہا کہ بشرالاسد کو سابق لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں معاونت کرنے کے جرم میں جیل میں جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی نگرانی میں کی گئی ایک انکوائری میں شام کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے لیکن شام نے اس واقعے سےکسی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔ خدام پچھلے سال جون میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے اور اس کے بعد سے اب تک وہ فرانس میں مقیم ہیں۔ پیرس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حزب اختلاف کے گروپوں سے کہا کہ ’انہیں شام کے لوگوں کے لیے حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے موافق ماحول پیدا کرنا ہو گا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اس حکومت کی اصلاح نہیں ہو سکتی، صرف ایک ہی حل بچا ہے اور وہ یہ کہ اسے زبردستی ختم کر دیا جائے۔ اسے ختم کرنے والے شام کے عوام ہی ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوسری قوموں کو شامی حزب اختلاف کی مدد کرنے کو نہیں کہا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے کسی سے رابطہ نہیں کیا کیونکہ تبدیلی اندر سے آنی چاہیے۔ اگر تبدیلی باہر سے آئے گی تو ملک کے مفادات متاثر ہوں گے‘۔ جمعرات کو ’فرانس 3‘ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شام کے صدر رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہیں اور انہیں اس کی سزا ملنی چاہیے۔ صدر بشرالاسد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ عبدالحلیم خدام نے کہا کہ لبنان میں شام مخالف لوگوں کی ہلاکت پر انہیں کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ’جو لوگ ان واقعات کے پیچھے ہیں وہ انہیں جاری رکھیں گے کیونکہ وہ لبنان میں بدامنی چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں بھی ان کا نشانہ ہوں لیکن میں خوفزدہ نہیں ہوں‘۔ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے ان سے پوچھ گچھ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور انہوں نے اس موقع پر مزید انکشافات کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||