شام اورایران سے کوئی نرمی نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے ایران اور شام کے بارے میں غیر واضح لیکن سخت موقف کا اعادہ کیا ہے۔ صدر بش نے کہا ہے کہ ایران جب تک جوہری پروگرام ترک نہیں کرتا اس سے کوئی بات نہیں ہو سکتی جب کے وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ عراق کے سلسلے میں ایران سے بات ہو سکتی ہے۔ لندن میں برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے مجموعی پالسی میں دونوں ممالک (ایران اورع شام) سے تعون شامل ہے۔ جب کہ ڈاؤننگ سٹریٹ سے ان کے ترجمان نے کہانے بالاصرار کہاہے کہ ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دمشق اور تہران کی حکومتوں کو نئی رعایتیں دینا نہیں ہے۔ صدر بش اور اسرائیل کے صدر ایہود المرت نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب ایران کے بارے میں سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ صدر بش نے کہا ہے کہ ایران جوہری پروگرام ترک نہیں کرتا تو بین الاقوامی برادری کو اس سے رشتے ناطے ختم کرنا ہوں گے۔ اسرائیل کے صدر ایہود المرت نے اس نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ اسرائیل ہرگز یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرے۔ گزشتہ روز تک امریکہ کی جانب سے یہ اشارے دیے جا رہے کہ صدر بش ایران اور شام کے بارے میں نئی حکمتِ عملی پر غور رک سکتے ہیں۔
اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ صدر بش عراق کے بارے میں کثیرالجماعتی جائزہ گروپ سے ملنے والے ہیں اور عراق کے بارے میں ہر تجویز پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ کے کثیرالجماعتی گروپ یہ رائے رکھتا ہے کہ عراق کا معاملہ حل کرنے کے لیے ایران اور شام کا تعون حاصل کیا جانا چاہیے۔ اس لیے توقع کی جا رہی تھی کہ صدر بش ایران اور شام سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کر سکتے ہیں۔ لیکن اب صدر بش نے کم و بیش اسی موقف کا اعادہ کیا ہے جو اس سے پہلے تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران کو بات چیت کے لیے شرائط قبول کرنا ہوں گی اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام ترک کرنا ہو گا۔ لیکن وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ عراق میں صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے شام اور ایران سے بات کی جا سکتی ہے۔
ادھر برطانوی وزیراعظم ٹونی بلییر نے ایران کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ گزشتہ شب لندن میں برطانوی خارجہ پالیسی کے بارے میں ایک اہم تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے عراق، کبنان اور فلسطین میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ تام اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر ایران اپنی عالمی ذمے داریوں کو سمجھتے ہوئے تعمیری کردار ادا کرنے پر تیار ہو تو اس سے ’شراکت‘ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ملک عراق کی صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے لیک اب اسے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہو گا۔ برطانوی وزیاعظم نے کہا کہ ’ایران کے سامنے اب صرف دو راستے ہیں۔ یا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں تعمیری کردار ادا کرے، لبنان اور عراق میں دہشت گردی کی اعانت بند کرے اور اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے اور یا پھر بین الاقوامی برادری میں الگ تھلگ ہونے کے لیے تیار ہو جائے۔ ٹونی بلیئر نے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں ایک جامع پالیسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جس کا آغاز ان کے بقول ’فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے حل سے ہونا چاہیے۔ | اسی بارے میں عراق: اکتوبر میں 90 فوجی ہلاک25 October, 2006 | آس پاس بغداد: ایک دن میں 56 لاشیں03 November, 2006 | آس پاس ’فوج عراق پالیسی میں تجاویزدے گی‘11 November, 2006 | آس پاس دوہرا خودکش حملہ، 35 ہلاک12 November, 2006 | آس پاس عراق: 4 برطانوی، 3 امریکی ہلاک13 November, 2006 | آس پاس بلیئر: ایران اور شام بات کی جائے13 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||