’فوج عراق پالیسی میں تجاویزدے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ فوجی حکام عراق پالیسی تبدیل کرنے کے لیے تجاویز پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ جائنٹ چیفس آف سٹاف کے سربراہ پیٹر پیس نےکہا کہ فوجی کمانڈروں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری اور جو تبدیلیاں ضروری ہوئی کی جائیں گی۔ امریکی صدر جارج بُش پیر کو کانگریس کے حکم پر عراق پالیسی پر غور کے لیے قائم کیے گئے پینل کے ارکان سے ملاقات کریں گے۔ یاد رہے کہ امریکہ میں چند روز پہلے ختم ہونے والے وسط مدت کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ناکامی کی وجہ عراقی پالیسی کو کہا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ عراق کے بارے میں نئی سوچ کا خیر مقدم کرے گا اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عنقریب پالیسی میں بڑی تبدیلی غیر متوقع نہیں ہوگی۔ جنرل پیس نے کہا کہ وزیر دفاع کی تبدیلی سے براہ راست کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ فوج میں ہر وقت بدلتی صورتحال پر نظر رکھی جاتی ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ کیا نیا کرنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس کے حکم پر قائم کیے گئے پینل کی سربراہی امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جیمز بیکر کر رہے ہیں اور ان سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کی پالیسی میں عدم تبدیلی مستقبل بعید میں قابل عمل نہیں ہو گی۔ | اسی بارے میں عراق:’بد عنوانی سےاربوں کانقصان‘09 November, 2006 | آس پاس عراق میں ہلاکتیں 100000: وزیر10 November, 2006 | آس پاس صدام کو پھانسی نہ دیں: مبارک10 November, 2006 | آس پاس کانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ10 November, 2006 | آس پاس رمزفیلڈ کی جگہ باب گیٹس08 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||