صدام کو پھانسی نہ دیں: مبارک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے صدر حسنی مبارک نے خبردار کیا ہے کہ اگر معزول عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دی گئی تو اس سے عراق میں خونریزی میں مزید اضافہ ہوگا۔ صدر مبارک کا یہ بیان مصری اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ صدام حسین کے سزائے موت کے فیصلے پر کسی عرب رہنما کا پہلا بیان ہے۔ مصری صدر کا کہنا ہے کہ اگر صدام حسین کو پھانسی دے دی جاتی ہے تو اس سے محض اور خون خرابہ ہوگا اور فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات اور اختلافات میں اضافہ ہوگا۔ صدر مبارک کے مطابق اگر صدام حسین کی موت کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو ’عراق خون کا دریا بن جائے گا۔‘ صدر حسنی مبارک برسوں سے صدام حسین کے مخالف رہے ہیں اور ان پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ صدام حسین کو پھانسی دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ سابق عراقی صدر صدام حسین کو عراقی عدالت نے پانچ نومبر کو سزائے موت سنائی تھی۔ اس کے کچھ روز بعد عراقی وزیر اعظم نور الملکی نے کہا تھا کہ صدام حسین کو اگلے دو ماہ کے اندر پھانسی دے دی جائے گی۔ |
اسی بارے میں ’صدام کوپھانسی اسی سال ہو گی‘07 November, 2006 | آس پاس یورپی یونین: سزائے موت کی مخالفت06 November, 2006 | آس پاس عراق کے لئے اہم سنگ میل: بش06 November, 2006 | آس پاس صدام عدالت پر چھائے رہے05 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||