BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 November, 2006, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام کو پھانسی نہ دیں: مبارک
صدر حسنی مبارک
صدر حسنی مبارک پہلے عرب رہنما جنہوں نے صدام حسین کی سزائے موت کے فیصلے پر بیان دیا ہو
مصر کے صدر حسنی مبارک نے خبردار کیا ہے کہ اگر معزول عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دی گئی تو اس سے عراق میں خونریزی میں مزید اضافہ ہوگا۔

صدر مبارک کا یہ بیان مصری اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ صدام حسین کے سزائے موت کے فیصلے پر کسی عرب رہنما کا پہلا بیان ہے۔

مصری صدر کا کہنا ہے کہ اگر صدام حسین کو پھانسی دے دی جاتی ہے تو اس سے محض اور خون خرابہ ہوگا اور فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات اور اختلافات میں اضافہ ہوگا۔

صدر مبارک کے مطابق اگر صدام حسین کی موت کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو ’عراق خون کا دریا بن جائے گا۔‘

صدر حسنی مبارک برسوں سے صدام حسین کے مخالف رہے ہیں اور ان پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ صدام حسین کو پھانسی دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

سابق عراقی صدر صدام حسین کو عراقی عدالت نے پانچ نومبر کو سزائے موت سنائی تھی۔ اس کے کچھ روز بعد عراقی وزیر اعظم نور الملکی نے کہا تھا کہ صدام حسین کو اگلے دو ماہ کے اندر پھانسی دے دی جائے گی۔

صدام حسینصدام حسین مقدمہ
عدالتی کارروائی کے دوران کب کیا ہوا
اسی بارے میں
صدام عدالت پر چھائے رہے
05 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد