’صدام کوپھانسی اسی سال ہو گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزیراعظم نور المالکی نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ صدام حسین کو اسی سال کے اختتام تک پھانسی دے جائی گی۔ صدام حسین کو چند روز پہلے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف اپیل ابھی سنی جانی ہے۔ عراقی قانون کے تحت پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت نو رکنی اپیلٹ عدالت کرے گی۔اگر اپیلٹ عدالت نے بھی سزائے موت برقرار رکھی تو صدام حسین کو ایک ماہ کے اندر پھانسی دینا لازم ہو گا۔ ایک مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد صدام حسین کے خلاف دوسرے مقدمے کی سماعت شروع کر دی گئی جس میں جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ عراقی وزیر اعظم نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ صدام حسین کو پھانسی نہ دینے کے کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور انہیں امید ہے کہ دنیا عراق کے عدالتی نظام میں دخل دینے کی کوشش نہیں کرے گی۔ عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ عراق کی فوج چند ماہ میں اس قابل ہو جائے گی کہ وہ وہ امریکی اور اس کے اتحادیوں کی مدد کے بغیر ہی مزاحمت کارروں کا مقابلہ کر سکے اور عراقی کی سکیورٹی کی صورتحال اپنے کنٹرول میں لے لے۔ عراقی وزیر اعظم نے امریکہ کی سربراہی میں عراق پر حملہ کرنے والے ملکوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حملہ کرنے سے پہلے عراق کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ امریکی اور برطانوی افواج نے عراق پر حملے سے پہلے عراق کے سماجی اور سیاسی حالات کے بارے میں اگاہی حاصل کی ہو گی۔ عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی اور برطانوی افواج کے پاس صدام حسین کی حکومت کو گرانے کے علاوہ کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ | اسی بارے میں صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | آس پاس یورپی یونین: سزائے موت کی مخالفت06 November, 2006 | آس پاس عراق کے لئے اہم سنگ میل: بش06 November, 2006 | آس پاس صدام حسین کی درخواستِ مفاہمت07 November, 2006 | آس پاس صدام عدالت پر چھائے رہے05 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||