یورپی یونین: سزائے موت کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے ملک کے معزول صدر صدام حسین کے خلاف عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’ایک پورے سیاہ باب کے خلاف فیصلہ ہے‘۔ نوری مالکی نے کہا کہ صدام حسین مجرم ہیں اور انہیں جو سزا سنائی گئی ہے اس کے حقدار ہیں۔ امریکی صدر جارج بُش نے فیصلے کو سنگِ میل قرار دیا جبکہ یورپی یونین نے صدام حسین کو سزائے موت دینے کی مخالفت کی ہے۔ صدام حسین اور ان کے ساتھی ملزمان کو اپیل کا حق دیا جائے گا لیکن اس میں شاید صرف چند ہفتے لگیں اور خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ بھی ملزمان کے خلاف جائے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وولڈرج کے مطابق اس بارے میں شکوک پائے جا رہے ہیں کہ صدام حسین کو سنائی گئی سزا پر عمل درآمد میں کتنا وقت لگے گا۔ عراق کے صدر جو ان دو لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی سزا پر عمل درآمد کے لیے منظوری لازمی ہے، سزائے موت کے مخالف ہیں۔ بغداد میں ایک عدالت نے اتوار کو عراق کے معزول صدر صدام حسین کے خلاف دجیل مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے انہیں یہ سزا 1982 میں شیعہ اکثریتی علاقے دجیل میں 148 افراد کی ہلاکت میں ان کے کردار پر سنائی ہے۔ صدام کے بھائی برزان تکریتی اور مقدمے کے ایک اور ملزم سابق جج ایواد حامد البندیر کو سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے جبکہ نائب صدر طحٰہ یاسین رمضان کو عمر قید اور بعث پارٹی کے تین عہدے داروں کو پندرہ پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے مقدمے کے ایک ملزم محمد آزاوی علی کو ناکافی شہادتوں کی بناء پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ رہائی کا حکم پانے والے آزاوی علی دجیل میں سابق حکمران بعث پارٹی کے ایک عہدے دار تھے۔ عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے ٹیلی وژن پر اپنی تقریر میں فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ’ یہ سزا ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اقتدار کے پورے تاریک دور کے لیے ایک سزا ہے۔‘ نوری المالکی نے مزید کہا ’ممکن ہے یہ سزا ان بیواؤں اور بچوں کے درد کو کم کر سکے جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کو دنیا کی نظروں سے بچا کر دفن کر دیں، اور ان کے درد جنہیں اپنے جذبات اور خود پر کیے جانے والے ظلم کو دبا دینے پر مجبور کیا گیا، یا ان کے درد جن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘ وائٹ ہاؤس نے بھی صدام حسین کو سزائے موت کے فیصلہ کو خوش آمدید کہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا ’آج کا دن عراق کے عوام کے لیئے ایک اچھادن ہے۔‘ عدالتی فیصلے کے منظر عام پر آنے کے کچھ دیر بعد ہی بغداد میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ چھ ملین افراد پر مشتمل بغداد شہر میں دن بھر کا کرفیو لگا دیا گیا ہے اور کرفیو کے دوران صدام حسین کے حامیوں کی جانب سے کسی ممکنہ تشدد کے خطرے کے پیش نظر ہر قسم کی چھوٹی بڑی گاڑیوں کی آمدو رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور شہر کا ائیر پورٹ بند کردیا گیا ہے۔ صدام کے آبائی قصبے تکریت سمیت بغداد کے آس پاس کے علاقوں میں بھی کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں صدام پر فیصلہ، سخت سکیورٹی04 November, 2006 | آس پاس عراق صدام پر فیصلے کا منتظر05 November, 2006 | آس پاس صدام پھر عدالت سے باہر26 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||