اطمینان پر مبنی عالمی ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو عراق کے معزول صدر صدام حسین کو سزائے موت دیئے جانے کے فیصلے پر عراق اور دنیا کے مختلف حصوں سے ردِ عمل میں عدالتی فیصلے پر اظہارِ اطمینان کیا گیا ہے۔ عراق کے صدر جلال طالبانی نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے: ’میرے خیال میں یہ مقدمہ منصفانہ طور پر چلایا گیا۔ میرے دل میں عراقی عدلیہ کی آزادی کا احترام ہے تاہم جب تک انصاف کے تمام تقاضے پورے نہیں ہو جاتے میں خاموش رہوں گا کیونکہ میرے جملوں سے صورتِ حال پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘ ملک کے وزیر اعظم نوری مالکی نے ٹیلی وژن پر اپنی تقریر میں فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ’ یہ سزا ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اقتدار کے پورے تاریک دور کے لیے ایک سزا ہے۔‘ نوری المالکی نے مزید کہا ’ممکن ہے یہ سزا ان بیواؤں اور بچوں کے درد کو کم کر سکے جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کو دنیا کی نظروں سے بچا کر دفن کر دیں، اور ان کے درد جنہیں اپنے جذبات اور خود پر کیے جانے والے ظلم کو دبا دینے پر مجبور کیا گیا، یا ان کے درد جن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘ وائٹ ہاؤس نے بھی صدام حسین کو سزائے موت کے فیصلہ کو خوش آمدید کہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا ’آج کا دن عراق کے عوام کے لیئے ایک اچھادن ہے۔‘ برطانیہ کی خارجہ سیکرٹری مارگریٹ بیکٹ نے صدام حسین اور دیگر ملزمان کی سزائے موت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو اپنے جرائم کی سزا ملی ہے۔ بیکٹ نے کہا ہے صدام حسین کے دور میں گھناؤنے جرائم ہوئے اور یہی مناسب تھا کہ ان جرائم کے ملزموں کو عراق ہی میں انصاف کے کٹھہرے میں کھڑا کیا جاتا۔
عراق میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا: ’آج کا دن عراق کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے کیونکہ اب یہ ملک ایک ایسے آزاد اور انصاف پسند معاشرے کی جانب بڑھےگا جس کی بنیاد قانون کی بالادستی پر ہوگی۔‘ ’ممکن ہے کہ اگلے چند ہفتے عراقیوں کے لیے مشکل ہوں لیکن صدام حسین اور ان کی حکومت کا باب ختم ہونے سے اتحاد اور بہتر مستقبل کا موقع پیدا ہوگا۔‘ سپین کے وزیرِ اعظم جوزے لوئس زپاٹیرو نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ اگرچہ یورپی اتحاد پھانسی کے خلاف ہے لیکن صدام حسین کو اپنے کیئے کی سزا ملی ہے۔ انہوں نے کہا کسی بھی عام شہری یا سیاسی رہنما کی طرح صدام حسین کو بھی اپنے اور اپنی حکومت کے اعمال کا جواب دہ ہونا تھا۔ ادھر ایران نے بھی صدام حسین کی سزائے موت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ انیس سو اسی کی دہائی میں صدام حسین کی عراق پر چڑھائی کے نیتجے میں لاکھوں ایرانیوں کی جانیں ختم ہوئی تھیں۔ | اسی بارے میں عدالت: جج اور صدام کی تکرار 05 November, 2006 | آس پاس صدام پر فیصلہ، سخت سکیورٹی04 November, 2006 | آس پاس صدام حسین ڈکٹیٹر نہیں تھے: جج14 September, 2006 | آس پاس صدام نے مقدمے کا بائیکاٹ کر دیا10 July, 2006 | آس پاس عراق: خدشات جو حقیقت بن گئے10 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||