BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 November, 2006, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالت: جج اور صدام کی تکرار
صدام حسین
مقدمے کی کارروائی کے دوران صدام حسین خود کو عراق کا صدر ہی کہتے رہے
عراق کے معزول صدر صدام حسین اور مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کے درمیان تواتر کے ساتھ تندوتیز جملوں کے تبادلے ہوتے رہے ہیں۔ جنوری 2006 میں جج رزگار امین کے بعد مقدمے کی کارروائی کے دوران صدام کے جج رؤف عبدالرحمنٰ سے تند و تیز جملوں کے تبادلے میں سے کچھ کے اقتباسات درج ذیل ہیں:

صدام اور جج امین: مقدمے کی 19 اکتوبر 2005 میں ازسر نو سماعت کا آغاز:

جج: مسٹر صدام، ہم آپ کی شناخت چاہتے ہیں۔ مکمل نام بتائیں پلیز۔۔۔

صدام: سب سے پہلے یہ بتاؤ کہ کہ تم کون ہو؟ میں جاننا چاہتا ہوں کہ تم کون ہو؟ کیا تم ججوں میں سے ہو؟ میں اس عمارت میں صبح آٹھ بجے سے ہوں۔

جج: مسٹر صدام! پلیز بیٹھ جائیں!۔ ہم دوسرے افراد کی شناخت کی کارروائی کا عمل مکمل کریں گے اور بعد میں ہم آپ سے شروع کریں گے۔

صدام: میں صبح نو بجے سے یہاں بیٹھا ہوں۔

جج: اچھا، اب آپ بیٹھ سکتے ہیں اور تسلی رکھیے۔ اپنی شناخت بتایئے اور خاطر جمع رکھیے۔

صدام: تم مجھے جانتے ہو، میں تھکتا نہیں ہوں۔

جج: یہ عدالتی ضابطے ہیں، ہم آپ سے آپ کی شناخت کے بارے میں سننا چاہتے ہیں۔ یہ معمول کی کارروائیاں ہیں اس لیئے پلیز بتائیں!

صدام: میں نے تم میں سے کسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے لیکن سچائی اور عظیم عراقی عوام کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے اور عدالت میں موجود تمام افراد سے میں انتہائی عزت کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں اس نام نہاد عدالت کا جوابدہ نہیں ہوں اور میں عراق کا صدر ہونے کی حیثیت سے اپنے تمام آئینی اختیارات بحال کرتا ہوں۔

جج: یہ تمام معاملات بعد میں بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ عدالت کا ان باتوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

صدام: نہ تو میں ایسی کسی اتھارٹی کو مانتا ہوں جس کے احکامات کے تحت اس عدالت کو لگایا گیا ہے اور نہ ہی میں اس جرم کو قبول کرتا ہوں۔ ان سب کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔

(صدام بالاخر اپنی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں اور جج ان کا نام پڑھتے ہیں اور انہیں سابق عراقی صدر کہہ کر پکارتے ہیں)۔

 سچائی اور عظیم عراقی عوام کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے اور عدالت میں موجود تمام افراد سے میں انتہائی عزت کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں اس نام نہاد عدالت کا جوابدہ نہیں ہوں اور میں عراق کے صدر ہونے کی حیثیت سے اپنے تمام آئینی اختیارات بحال کرتا ہوں
عدالت میں صدام حسین کی تکرار

صدام: میں نے کہا ہے کہ میں عراق کا صدر ہوں، میں نے معزول نہیں کہا۔

صدام اور جج عبدالرحمن: 13 فروری 2006

(صدام عدالت میں داخل ہوتے ہیں)، بش مردہ باد۔ عراقی قوم زندہ باد۔۔ (جج کو مخاطب کرتے ہوئے)، تم ہمیں یہاں زبردستی کیوں لائے ہو؟ تہمارے اختیارات کیا تمہیں ملزم کی غیر حاضری میں مقدمے کی کارروائی چلانے کا حق دیتے ہیں؟ کیا تم اپنی کوتاہ فہمی پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہو؟

جج: قانون پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

صدام: (چیخ کر کہتے ہوئے) آپ کو شرم آنی چاہیے۔

صدام اور جج عبدالرحمن: 14 فروری 2006

(صدام چلاتے ہوئے عدالت کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں) مجاہدین زندہ باد! میں تمام عراقیوں سے کہتا ہوں۔ لڑو اور اپنے ملک کو آزاد کراؤ۔ (بعد میں جج سے مخاطب ہوتے ہوئے) اس عدالتی ہتھوڑے سے اپنے سر پر ضرب لگاؤ۔

صدام سمیت سات افراد پر دجیل میں ہلاکتوں کے خلاف مقدمہ چلایا گیا
صدام اور جج عبدالرحمن: یکم مارچ 2006
( صدام کی سیاسی تقریر شروع ہوتے ہی جج ان کا مائیک بند کر دیتے ہیں)
جج: آپ اپنی عزت ملحوظِ خاطر رکھیں!

صدام: : (چیخ کر کہتے ہوئے) تم اپنی عزت کا خیال رکھو!

جج: آپ ایک بڑے مقدمے کے ایک ملزم ہیں جس کا تعلق معصوم لوگوں کی ہلاکتوں سے ہے۔ آپ کو اس الزام کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔

صدام: بغداد میں مرنے والے افراد کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ لوگ معصوم نہیں ہیں؟ میں عراقی عوام سے مخاطب ہوں۔

صدام اور جج عبدالرحمن: 22 مئی 2006

صدام، اپنے وکلاء میں سے ایک وکیل کے خارج کیے جانے کے معاملے پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں صدام حسین ہوں۔ عراق کا صدر۔ میں تم اور تمہارے باپ کے اوپر ہوں۔

جج: (غصے سے) اب آپ ایک صدر نہیں بلکہ ایک ملزم ہیں۔

ججوں کے ساتھ تکرار
عدالت میں ججوں سے صدام کے تیزوتند جملے
صدام حسینصدر سے مجرم
صدام حسین صدر سے قیدی پھِر مجرم
صدام حسینصدام حسین مقدمہ
عدالتی کارروائی کے دوران کب کیا ہوا
صدام کیخلاف کیس
معزول صدر صدام حیسن کے خلاف مقدمات کیوں؟
اسی بارے میں
دجیل میں کیا ہوا؟
28 November, 2005 | آس پاس
دجیل قتلِ عام پر گواہی
05 December, 2005 | آس پاس
دجیل، صدام کے مبینہ دستخط
28 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد