 | | | میں ان الزامات کے جواب میں ہاں یا نہ نہیں کہہ سکتا:صدام حسین |
عراق کے سابق صدر صدام حسین اور ان کے سات ساتھیوں کے خلاف انیس سو بیاسی میں دجیل میں ایک سو اڑتالیس شیعوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں مقدمہ چلایا گیا۔ درج ذیل میں اس مقدمہ کی سماعت کے چیدہ چیدہ مراحل کا مختصر احوال دیا جاتا ہے۔ اتوار 5 نومبر صدام حسین پر انسانیت کے خلاف جرائم ثابت ہو جاتے ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دریائے دجلہ پر واقع شہر دجیل میں انیس سو بیاسی میں ایک سو اڑتالیس شیعوں کو ہلاک کیا۔انہیں تختہ دار پر لٹکا کر پھانسی دی جانے کے سزا سنائی جاتی ہے۔ اتوار 29 اکتوبر سرکاری وکلاء کے پینل کے سربراہ جعفر المساوی کہتے ہیں کہ چونکہ ابھی تک چند عدالتی لوازمات مکمل نہیں ہوئے اس لیئے صدام حسین کے مقدمہ کا فیصلہ، جو پانچ نومبر کو متوقع ہے، اس میں دو ہفتے تک کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ ادھر عراق میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیل زاد نے اس خیال کی تردید کی ہے کہ بش انتظامیہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ مقدمہ کا فیصلہ امریکہ کے سات نومبر کے انتخابات سے پہلے سنایا جائے۔ جمعرات 27 جولائی صدام حیسن اپنی آخری پیشی پر عدالت میں پیش نہیں ہوتے لیکن دوسرے دو ملزمان، عراق کے سابق نائب صدر طہ یاسین رمضان اور عود حماد البندر عدالت میں حاضر ہوتے ہیں۔ آج یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ صدام کی قسمت کا فیصلہ اکتوبر میں ہو جائے گا۔ بدھ 26 جولائی صدام دوبار عدالت میں آتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں زبردستی ان کے ہسپتال سے لایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں سزائے موت سنائی جاتی ہے تو وہ چاہیں گے کہ انہیں پھانسی دینے کی بجائے گولی ماری جائے۔ ’مجھ جیسے فوجی شخص کے لیئے سزائے موت دیے جانے کا بہتر طریقہ گولی مارنا ہے۔‘ صدام حیسن بھوک ہڑتال کی وجہ سے کمزور دکھائی دے رہے ہیں، تاہم آج بعد میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کھانا پینا شروع کر دیا ہے۔ پیر 24 جولائی مقدمہ کی کارروائی دوبارہ شروع ہوتی ہے لیکن صدام حسین بھوک ہڑتال کی وجہ سے بیمار ہیں اور عدالت میں حاضر نہیں ہوتے۔ ان کے علاوہ باقی تمام ملزمان بھی عدالت کی کارروائی میں حصہ لینے سے یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں ان کے خلاف مقدمہ منصفانہ انداز میں نہیں چلایا جا رہا۔ آج چیف جج رؤف عبدالرحمن عراقی انٹیلیجنس کے سابق سربراہ بزران ابراہیم التکریتی کو، جو کہ صدام کے سوتیلے بھائی بھی ہیں، کہتے ہیں کہ ان کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ منگل 11 جولائی چیف جج کارروائی ملتوی کر دیتے ہیں اور صدام اور ان کے ساتھیوں کے وکلاء کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ عدالت کا بائیکاٹ ختم کریں۔ صدام اور ان کے ساتھی آج بھی عدالت میں نہیں آتے سوائے دو چھوٹے مجرموں کے۔ پیر 10 جولائی صدام حسین عدالت کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی ’بین الاقوامی اور عراقی قوانین کا تمسخر اڑانے سے کم نہیں اور اس کے پیچھے امریکہ کے گھٹیا عزائم ہیں۔‘ صدام یہ بیان آج اس وقت دیتے ہیں جب عدالت دفاع کے وکلاء کے دلائل کو سمیٹنا شروع کر دیتی ہے۔ صدام کے علاوہ دو دوسرے بڑے ملزموں کے وکلاء بھی کہتے ہیں کہ جب تک ان کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے جاتے وہ بھی عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ پیر 19 جون استغاثہ کے وکلاء کے سربراہ ملزمان کے خلاف اپنے دلائل سمیٹتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صدام حسین، ان کے سوتیلے بھائی اور اور طہ یاسین رمضان کو سزائے موت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا ’یہ لوگ زمین پر بدعنوانی پھیلا رہے تھے، حتٰی کہ شجر بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہیں تھے۔‘ کارروائی دس جولائی تک ملتوی کر دی جاتی ہے جب وکیل صفائی اپنے آخری دلائل دیں گے۔ اس کے بعد پانچوں ججوں پر مشتمل پینل فیصلہ لکھنے کے لیے تخلیہ میں چلا جائے گا۔ آج سرکاری وکیل کہتے ہیں کہ بعث پارٹی کے اہلکار محمد عزام عزاوی کے خلاف الزامات واپس لیے جاتے ہیں اور وہ عدالت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عزاوی کو بری کر دیا جائے۔ منگل 13 جون چیف جج کارروائی کا آغاز کرتے ہیں کہتے ہیں کہ یہ وکلاء صفائی کے لیئے دلائل دینے کا آخری موقع ہے۔ چیف جج ملزمان اور ان کے وکلاء کو ڈانٹتے ہیں کہ وہ لوگ طویل تقریریں کرنا بند کریں۔ ’آپ لوگ باسٹھ گواہوں کو بلا چکے ہیں۔ اگر یہ کافی نہیں ہیں تو اگر میں ایک سوگواہ بلا لوں تو بھی آپ کے لیئے ناکافی ہوں گے۔‘ پیر 12 جون کارروائی کے دوبارہ آغاز کے موقع پر ہنگامہ آرائی ہو جاتی ہے۔ صدام کے سوتیلے بھائی بزران التکریتی جج سے تکرار شروع کر دیتے ہیں جس پر سکیورٹی اہلکار انہیں اٹھا کر عدالت سے باہر لے جاتے ہیں۔ وکیل صفائی عدالت سے مزید وقت مانتے ہیں۔ وکیل کرٹس ڈوبلر کہتے ہیں کہ جس انداز میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اس سے وکلاء صفائی کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وکیل استغاثہ کو اپنے دلائل کے لیے پانچ ماہ دیے گئے جبکہ وکلاء صفائی کو کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دلائل چند ہفتوں میں مکمل کریں۔ جج عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ان چار گواہوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جنہوں نے گزشتہ ہفتے الزام لگایا تھا کہ اسغاثہ نے انہیں غلط گواہی دینے کے لیے رشوت کی پیش کش کی ہے۔ چار میں سے تین گواہوں نے عدالت میں کہا تھا کہ جن لوگوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں صدام اور ان کے ساتھیوں پر مقدمہ چل رہا ہے ان میں سے کئی زندہ ہیں۔ جج نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بول رہے تھے اس لیئے ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ پیر 5 جون وکلاء صفائی عدالت میں ان کے مؤکلوں کے خلاف پیش کیے جانے والے دستاویزی ثبوتوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عدالتی کارروائی روک کر پہلے یہ طے کیا جائے کہ یہ دستاویزات درست ہیں یا نہیں۔ بدھ 31 مئی وکلاء صفائی الزام لگاتے ہیں استغاثہ عدالت میں جو ثبوت پیش کر رہا ہے وہ من گھڑت ہیں۔ استغاثہ الزام کی تردید کرتا ہے۔ صدام حسین اور دوسرے ملزمان کی طرف سے پیش کیے جانے والے ایک گواہ کا کہنا ہے کہ استغاثہ نے انہیں اپنا بیان بدلنے کے لیے کہا اور انہیں رشوت کی پیش کش بھی کی۔ منگل 30 مئی گواہان صفائی میں سے ایک عدالت کو بتاتا ہے کہ جن 148 افراد کے بارے میں کہا جا رہا کہ انہیں صدام حسین کا تحتہ الٹے کی کوشش کے جرم میں صدام اور ان کے ساتھوں نے ہلاک کر دیا تھا ان میں سے 23 درحقیقت زندہ ہیں۔ اس پر جج وکلاء صفائی کو کہتے ہیں کہ وہ اپنے گواہوں کی تعداد کم رکھیں کیونکہ عدالت کو غرض معیاری گواہی سے ہے نہ کہ گواہوں کی تعداد سے۔ بدھ 24 مئی عراق کے سابق نائب وزیر اعظم طارق عزیز صدام حسین کے گواہ کے طور پر پیش ہوتے ہیں وہ اپنے بیان میں کہتے ہیں کہ صدام حسین کئی دہائیوں تک ان کے ساتھی رہے ہیں۔ پیر 15 مئی آج استغاثہ کی طرف سے دلائل مکمل ہونے پر صدام حیسن اپنی صفائی میں کچھ کہنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ جب پوچھا جاتا ہے کہ وہ الزامات کے جواب میں کیا کہتے ہیں تو صدام کہتے ہیں کہ ’ میں ان الزامات کے جواب میں ہاں یا نہ نہیں کہہ سکتا۔ میں عراق کے عوام کی رضامندی سے عراق کا صدر بنا ہوں اور میں آج بھی عراق کا صدر ہوں۔‘ پیر 24 اپریل استغاثہ عدالت میں ایک گفتگو کی ریکارڈنگ سناتا ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ اس ٹیلیفون گفتگو پر مبنی ہے جو صدام حسین اور سابق نائب صدر کے درمیان دجیل میں ہلاکتوں کے بعد ہوئی۔ پیر 17 اپریل استغاثہ دعوٰی کرتا ہے کہ ماہرین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک دستاویز جس پر دجیل میں 148 افراد کو ہلاک کر دینے کے احکامات ہیں اس پر جو دستخط ہیں وہ خود صدام حسین کے ہیں۔ وکلاء صفائی کہتے ہیں کہ مذکورہ ماہرین آزاد نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے وزارت داخلہ کے ساتھ مراسم ہیں۔ اس پر عدالت ماہرین کو دستخطوں کے بارے میں حتمی رپورٹ تیار کرنے کے لئے مزید وقت دیتی ہے۔ بدھ 5 اپریل آج صدام حسین پر جرح کا آغاز ہوا۔ صدام حسین نے اپنے خلاف پیش کیے گئے ثبوتوں کو جعلی کہہ کر رد کر دیا۔ اس کے علاوہ وہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کے خلاف پیش کیے جانے والے گواہوں پر دباؤ ڈال کر استغاثہ اپنی مرضی کی شہادتیں دلوا رہا ہے۔ بدھ 15 مارچ صدام حسین اپنے باقاعدہ دفاع کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو محض ’مذاق‘ قرار دیتے ہیں۔ اس موقع پر وہ سمارہ میں ایک شیعہ مزار پر حملہ کے حوالے سے عراقی عوام کو خبردار کرتے ہیں اس سے ملک میں فرقہ وارانہ جنگ شروع ہو سکتی ہے، تاہم وہ ’امریکی حملے کے خلاف مزاحمت ‘ کو سراہتے ہیں۔ جج صدام کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ عدالت کو سیاسی تقاریر کے لیے استعمال نہیں کر سکتے، جس کے بعد ذرائع ابلاغ کو بھی عدالت سے چلے جانے کے لیئے کہا جاتا ہے۔ پیر 13 مارچ ایک ملزم عواد حامد البندر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ انہوں نے دجیل کے 148 شیعوں کو سزائے موت دی لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایسا انہوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا تھا۔ البندر، جو ایک انقلابی عدالت کے سربراہ تھے، کا کہنا تھا کہ کہ تمام ملزمان پر باقائدہ مقدمہ چلا گیا تھا۔ اس کے جواب میں استغانہ نے کہا کہ ایسی کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ بدھ یکم مارچ آج عدالت میں ایک ڈرامائی کیفیت پیدا ہو گئی۔ صدام حسین نے اچانک اعلان کیا کہ ان کے دور اقتدار میں جو کچھ ہوا وہ اکیلے اس کے ذمہ دار ہیں اس لئے باقی ملزمان کو بری کر دیا جائے۔ انہوں نے دجیل میں مارے جانے والوں کے کھیتوں کو تباہ کر دینے کا اقرار بھی کیا لیکن ان کا اصرار تھا کہ یہ اقدام غیر قانونی نہیں تھا۔ پیر 13 فروری جب صدام کو بائیکاٹ کے بعد دوبارہ عدالت میں زبردستی لایا گیا تو انہوں نے خاصا شور شرابا کیا۔ انہوں نے امریکہ اور عدالت کے نئے جج کے خلاف نعرہ بازی کی۔ ’یہ عدالت نہیں، یہ محض ایک کھیل ہے۔‘ اس پر جج نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ اگر ملزام عدالت میں نہ آئے تو اسے زبردستی لایا جا سکتا ہے۔ جمعرات 2 فروری صدام اور ان کے ساتھیوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے کوئی بھی ملزم عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔ بدھ یکم فروری چیف جج نے کہا کہ اگر صدام حسین اور ان کے ساتھی عدالت میں نہیں بھی آتے وہ مقدمہ کی کارروائی جاری رکھیں گے۔ اتوار 29 جنوری کارروائی شروع ہونے کے چند ہی منٹ بعد صدام حسین عدالت سے اٹھ کر چلے گئے۔ جج نے وکلاء صفائی کو تنبیہ کی کہ وہ اپنے مؤکلوں کو سمجھائیں۔ جج نے ان پر الزام لگایا کہ وہ اپنے مؤکلوں کو کارروائی میں خلل ڈالنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ منگل 24 جنوری ملزمان کے بائیکاٹ اور غیر حاضری کی وجہ سے سماعت ملتوی کر دی گئی۔ بدھ 21 دسمبر صدام حسین نے عدالت کو بتایا کہ حراست میں لیئے جانے کے بعد امریکی فوجیوں نے ان پر تشدد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سارے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔ عدالت نے ان کے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ آج استغاثہ کی طرف سے گواہ پیش ہوئے جنہوں نے بتایا کہ ان کے والدین پر ان کی آنکھوں کے سامنے تشدد کیا گیا اور ان میں سے کچھ کو جان سے مار دیا گیا تھا۔ اس پر بزران التکریتی عدالت میں کھڑے ہو کر چیخنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک سیاستدان ہیں مجرم نہیں۔’ میرے ہاتھ بالکل صاف ہیں۔‘ بدھ 7 دسمبر آج عدالت کا زیادہ تر وقت صدام حسین کو کارروائی کا بائیکاٹ کرنے سے روکنے پر صرف ہوا۔ منگل 6 دسمبر عدالت نے دجیل کے تین گواہوں کے بیانات سنے جن کو اجـازت دی گئی تھی کہ وہ اپنی شناخت ظاہر کیئے بغیر پردے کے پیچھے سے بیان ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ بعد میں جب جج نے کہا کہ سماعت بدھ کو بھی جای رہے گی تو صدام غصہ میں آ گئے اور انہوں نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’ جہنم میں جاؤ تم۔‘ پیر 5 دسمبر استغاثہ کی طرف سے آج پہلے گواہ کو پیش کیا گیا۔ گواہ کا بیان شروع ہوتے ہی صدام حسین نے کہنا شروع کر دیا کہ وہ سزائے موت سے نہیں ڈرتے۔ پیر 28 نومبر عدالت نے ایک گواہ کا بیان سنا جو 1982 میں دجیل میں ہونے والی ہلاکتوں کے وقت اینٹیلجنس افسر تھے۔ اس موقع پر صدام حسین کی طرف سے چار گواہ پیش ہونا تھے لیکن وہ عدالت میں تھے۔ بدھ 19 اکتوبر صدام حسین اور دیگر کے خلاف مقدمے کے سماعت کا آغاز انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں ہوا۔ صدام حسین نے عدالت کو ماننے سے انکار کیا۔ صرف تین گھنٹے کی کارروائی کے بعد سماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔ |