BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 05 September, 2005, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام حسین: مقدمے کی تاریخ طے
صدام حسین
صدام حسین پر چلائے جانے والے اس مقدمہ کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
عراق کی موجودہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صدام حسین پر مقدمہ 19 اکتوبر سے شروع ہوگا۔ اس سے پہلے صدام حسین کی صاحبزادی رغد صدام نے اپنے والد کی قانونی مدد کے لئے نئے وکلاء کے تقرر کا اعلان کیا تھا۔ رغد صدام نے کہا کہ صدام حسین کی قانونی مدد کے لیے اس سے قبل جن ڈیڑھ ہزار وکیلوں کو تعینات کیا گیا تھا انہیں فارغ کردیا گیا ہے۔ اب بین الاقوامی وکلاء کا ایک پینل ان کے والد صدام حسین کی پیروی کرے گا۔

عراق کے معزول صدر پر یہ مقدمہ اس الزام میں چلایا جائے گا کہ 1982 میں ان پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد شمالی بغداد کے علاقے میں ایک سو تینتالیس افراد کو، جو کہ شعیہ تھے، ہلاک کیا گیا تھا۔

اس مقدمے کے علاوہ صدام حسین اور ان کی حکومت کے دیگر اہلکاروں پر حلبجہ میں ہونے والے قتل عام اور ملک میں دریافت ہونے والی اجتماعی قبروں جیسے الزامات پر بھی مقدمے چلائے جائیں گے۔

پہلے بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد اور حال ہی میں بوسنیا میں ہونے والے قتل عام کے بعد سابق سربراہوں کے خلاف اس نوعیت کے مقدمات چلائے گئے ہیں۔ سابق سرب صدر سلوبودان ملوسیوِچ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت ہیگ میں قائم اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت مقدمہ پچھلے تین سال سے چل رہا ہے۔

صدام حسین پر چلائے جانے والے اس مقدمہ کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا یہ ایک منصفانہ اور غیر جانب دارانہ مقدمہ ہوگا؟ آپ کی رائے میں صدام حسین کے ساتھ کیسا سلوک کیا جانا چاہیے؟ کیا ان پر مقدمہ عراقی حکومت کو چلانا چاہیے یا پھر بین الاقوامی عدالت کو؟ آپ کو کیا لگتا ہے کیا اس قسم کے مقدمات سے واقعی کچھ حاصل ہوتا ہے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


شمزہ گِل:
بلاشبہ صدام حسین ایک مجرم ہیں لیکن بین الاقوامی عدالت کو تفتیش کرنی چاہئے اور انہیں کس نے ایسا سنگ دل بنایا؟۔۔۔۔

محمود احمد بٹ، قطر:
صدر صدام نے قاتلانہ حملہ کرنے پر ایک سو تینتالیس کو ہلاک کروایا تھا، حال ہی میں صدر پرویز مشرف کے بھی طور طریقے یہی رہے ہیں، ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔۔۔۔

عبدالمیخائیل، امریکہ:
بین الاقوامی سیاست کو سمجھنا اور دوستوں پو پہچاننا مشکل کام ہے جسے سیاسیاست کے ماہرین بھی نہیں سمجھ پارہے ہیں اور کوئی پیشین گوئی نہیں کرسکتے۔ صدام حسین ایسے سیاست دان ہیں جنہیں مشرق وسطیٰ میں استعمال کیا گیا، پڑوسیوں کے خلاف ان کا استعمال ہوا تاکہ مشرق وسطیٰ میں سوپر پاورز کا وقتی مفاد حاصل ہوسکے۔۔۔۔

اورم پوری:
صدام پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہئے اور اس کے ساتھ بش اور بلیئر پر بھی مقدمہ چلنا چاہئے۔ میرا خیال ہے بش صدام سے بھی بڑا دہشت گرد ہے۔۔۔

عنیلہ رحمان، یو کے:
صدام حسین سے جو کام لینا تھا وہ لے لیا گیا ہے، اب صدام حسین بےکار ہوگئے، اب مقدمہ چلایا جائے گا۔ جب یہ قتل ہورہے تھے تب انصاف کے ٹھیکیدار کہاں تھے؟ مسلمان حکمرانوں کو سبق سیکھنا چاہئے، ضیاء الحق، صدام حسین اور ایسے بہت سے دوسروں کو۔۔۔۔

احتشام چودھری، شارجہ:
میرے خیال میں صدام پر مقدمہ کسی صورت جائز نہیں بنتا۔ اگر انسانوں کو قتل کرنے پر مقدمہ ضروری ہے تو پھر بش اور بلیئر پر بھی مقدمہ چلایا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔۔۔۔

انی عاصم، یو کے:
صدام کو جو سزا ملنے کم ہے مگر صدام نے جن کے کہنے پر یہ سب کیا وہ بھی سزا کے حقدار ہیں۔۔۔۔

علیم اختر، گجرات:
کیا امریکہ، روس اور اسرائیل اور یو کے درندگی صدام کی درندگی سے کم ہے؟ کیا دوسرے ملکوں پر طاقت دھونس اور غلط جوازوں سے قبضہ کرنا اور پھر آزادی مانگنے والوں پر بمباری کرنا انسانیت ہے؟۔۔۔۔

نظیر شاہین، بھلول:
جناب جس چیز کو بنیاد بناکر عراق پر حملہ کیا گیا تھا پہلے اس کے ذمہ داروں کو سزا دینی چاہئے۔

>ڈاکٹر طارق زمان، کوریا:
عراق میں جنگ اگر صدام حکومت کے خلاف اس جواز پر لڑی جاتی ہے کہ وہ عالمی دنیا کے لیے خطرہ ہیں تو پھر ان کے خلاف مقدمے کی کاروائی بھی عالمی عدالت ہی میں ہونی چاہیے۔ پھر اسی عدالت میں ان تمام لوگوں پر مقدمات چلنے چاہئیں جنہوں نے انسانیت کا قتل کیا۔ بش میرے خیال میں اس صدی کے انسانوں کے سب سے بڑے قاتل ہیں۔

علی خان، جنوبی کوریا:
آخر صدام ہی کو کیوں پھانسی۔ اگر بی بی سی واقعی سروے کرنا چاہتی ہے تو پھر بش اور بلیئر کے لیے بھی رائے مانگی جائے مگر بی بی سی بھی تو ہوا کے رخ کے ساتھ ہی چلے گی۔

زدران خان، پاکستان:
میرے خیال میں صدام پر مقدمہ چلنا چاہیے کیونکہ انہوں نے بھی بہت ظلم کیے ہیں۔

عالم گیر بیگ، سویڈن:
صدام ظالم، جابر اور قاتل ہیں۔ انہیں ہزار بار پھانسی دی جائے تو بھی کم ہے۔ پتہ نہیں لوگوں کو ہر مسلمان خواہ وہ ایدی امین ہو یا صدام کیوں مظلوم نظر آتا ہے۔

عبدالغفور، ٹورنٹو:
جی نہیں، ان مقدمات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اس سے بہتر ہے کہ اس پر خرچ ہونے والی رقوم اور وسائل عوام کی بہتری کے لیے خرچ کئے جائیں۔

کامران خان، پاکستان:
صدام ایک عظیم رہنما ہیں۔

راجہ یونس، دمام:
یہ مقدمہ نہیں، ہارنے اور جیت جانے والے فریقین کا معاملہ ہے۔ اگر اپنے لوگوں کو مارنا جرم ہے تو پھر شاید کوئی بھی حکمران اس سے بری الذمہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اب بش، بلیئر اور مشرف بھی اپنی باری کا انتظار کریں۔

گل نایاب، لاہور:
یہ ایک ناٹک ہے اور امریکہ اس کا ہیرو۔ یہ غیرقانونی، غیراخلاقی اور غیر منصفانہ ہے۔

جاوید، شکاگو:
صاف نظر آرہا ہے کہ صدام حسین کسی قسم کی ٹرانس میں ہیں یا انہیں کسی قسم کی نفسیاتی اذیت دی جا رہی ہے۔ صدام حسین کا مقدمہ صرف ان کے اپنے جرائم کی فہرست پر مشتمل نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے ساتھ جیل میں جو ہورہا ہے، اس کی تفصیلات بھی آنی چاہئیں۔

ثناء خان، کراچی:
جس کی لاٹھی اس کی بھینس

عبدل قادر، پاکستان:
شہر بانو، امریکہ
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

کنول، کوریا:
جس شخص نے ساری زندگی خود انصاف نہیں کیا، اس کے لیے انصاف کی امید کرنا بہت بے انصافی ہوگی۔

عبدل قادر، پاکستان:
اب تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا، مقدمہ چلے یا نہ چلے۔ اب تو وہ ایک عام آدمی ہے اور وہ بھی امریکہ کے پاسآ اس کے ساتھ امریکہ کی جو مرضی وہ سلوک کرے گا۔ امریکی ویسے تو بہت بنتے ہیں، انہوں نے ابو غریب میں قیدیوں کے ساتھ جتنا برا سلوک کیا۔ اب صدام حسین کے ساتھ بھی جو چاہے کر سکتے ہیں۔ ان کو پوچھنے والا کون ہے؟

حماد بخاری، نامعلوم:
صدام کا مقدمہ انصاف کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک سیاسی اور متعصب کیس ہے۔ یہ ایک ڈرامہ ہے جو امریکہ بین الاقوامی سکرین پر کھیل رہا ہے۔

ریاض فاروقی، دبئی:
یہ ایک اچھی بات ہے امریکیوں میں کہ اگر کسی کو سزا دینی ہوتی ہے تو اس کے ہی ہم وطنوں کے ہاتھوں سے دیتے ہیں تاکہ ان کی باقی عوام بھی سبق سیکھے۔

طاہر چودھری، جاپان:
صدام پر مقدمہ چلانے سے پہلے بش اور بلئیر پر مقدمہ چلانا چاہیہ جن کی وجہ سے عراس میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے ہیں، لیکن بی بی سی ایسی رائے نہیں چھاپ سکتا کیونکہ وہ بھی غلام ہے طاقتوں کا۔

کریم خان، کینیڈا:
مجھے لگتا ہے کہ جیل میں امریکہ صدام حسین کو مفلوج کر دے گی تاکہ وہ راز اس کے سینے میں ہی دفن رہیں جو اس کے پاس ہیں۔ صدام پر صرف ایک مقدمہ تو ہے نہیں جس کی پیروی کی جائے۔ صدام کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ردماشی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ امریکہ کے ہوتے ہوئے انصاف کی توقع کرنا ہی فضول ہے۔ عراق پر امریکہ کا حملہ ہی انصاف کے خلاف تھا۔

امین اللہ شاہ، پاکستان:
میں تو بس اتنا کہوں گا:
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی خود منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں؟

واجد علی بابی، سوات، پاکستان:
جی نہیں۔ اگر صدام کے ساتھ انصاف ہوتا تو امریکہ عراق پر بلا جواز حملے کی جرآت نہیں کرتا۔

ظہیر الدین راشدی، کراچی، پاکستان:
صدام حسین پر مقدمہ ضرور چلنا چاہیے، مگر ایک آزاد، غیر جانب دار اور منصفانہ عدالت میں اور عوام کی صحیح نمائندگی کرنے والی حکومت کے تحت، نہ کہ حملہ آوروں کے ہاتھوں یا ان کی بنائی کٹھ پتلی حکومت کے ہاتھوں۔ صدام کو اپنے دفاع کی اجازت ہونی چاہیے اور انہیں اپنے لیے وکیل مقرر کرنے کا اختیار بھی ہونا چاہیے۔ مگر یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ صرف صدام اور ان جیسے چھوٹے چھوٹے رہنماؤں پر ہی کیوں مقدمے چلائے جاتے ہیں؟ جن بڑے بڑے رہنماؤں نے ہیروشیما، ناگاساکی، افغانستان اور عراق کے معصوم لوگوں کا قتل عام کیا ان پر کوئی عدالت مقدمہ کیوں نہیں چلاتی؟مجھے نہیں لگتا آپ میری یہ رائے شائع کریں گے۔ اور کریں گے بھی تو شاید کانٹ چھانٹ کے۔ مگر یہی سچ ہے۔

وجیح حسن، پاکستان:
بہت ضروری ہے تاکہ ایک جلاد کو پتہ چل سکے کہ لاکھوں کو صفہ ہستی سے مٹانے والا اب خود مرنے جا رہا ہے۔ صدام انسانیت کا قاتل ہے اور قتل کی سزا اسلام میں واضح ہے۔

ذیشان قمر، متحدہ عرب امارات:
میرا قاتل ہی میرا منصف ہے
کیا مرے حق میں فیصلہ دےگا؟

توحید احمد رانا، ترکی:
صدام حسین ایک مجرم ہے جس کو اپنے عوام کے ساتھ ظلم کی پوری سزا ملنی چاہیے۔ رہا سوال غیر جانب داری اور انصاف کا، تو وہ صدام حسین کو کبھی نہیں مل سکتا، کیونکہ وہ ایک مسلمان ملک کے مسلمان فوجی سربراہ تھے۔ سلوبودان ملوسیوِچ جیسا آرام اور عالمی میڈیا کورریج ملنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

امتیاز محمود، برطانیہ:
صدام پر عراقی عدالتوں میں ہی مقدمہ چلنا چاہیے کیونکہ وہ ایک عراقی ہے اور جرائم بھی عراق میں ہی پیش آئے۔ ایسے مقدمات کے فائدے محدود ہوتے ہیں مگر یہ موجودہ ڈکٹیٹروں، جیسے مبارک، مشرف اور شاہ عبداللہ، تک ایک موثر پیغام پہنچانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان:
صدام حسین اس وقت کے اپنے ملک کے حکمران تھے اور ان پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ اگر وہ اپنی حفاظت کے لیے یہ کرتے ہیں تو وہ قاتل اور اگر یہی امریکی صدر کریں تو ان کا ذاتی حق ہے۔۔۔کیا یہ سب کل امریکی حکمرانوں کے ساتھ بھی ہوگا؟

شکیل انجم ملک، جرمنی:
بی بی سی پر صدام کی یہ تصویر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صرف اللہ ہی کی ذات مضبوط اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ صدام نے زندگی میں کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ اس کی آخری زندگی اتنی بدتر بھی ہوگی۔ دوسروں پر ظلم کرنے والا آج بدبختی کی مثال بن جائے گا۔

محمد عمر اعظمی، دلی، انڈیا:
اگر صدام حسین نے وہ تمام ظلم کیے ہیں جن کا ان پر الزام ہے تب تو انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت سزا ہونی چاہیے۔ مگر جو ہزاروں لوگ عراق میں مارے گئے ان کا ذمہ دار کون ہے؟ میڈیا کبھی اس طرح کے سوال کیوں نہیں پوچھتا؟

آفتاب حسین، متحدہ عرب امارات:
صدام پر مقدمہ عراق میں ہی چلایا جانا چاہیے کیونکہ انہوں نہ جرم اپنے ہی ملک میں کیے تھے۔ اس لیے وہاں کے عوام کا حق بنتا ہے کہ وہ اپنے جابر حکمران کو کٹہرے میں دیکھیں۔

66غزہ سے انخلاء
یہودی آبادکاروں کا احتجاج : آپ کی رائے
66آپ کی رائے
جی-8 ممالک اور اسلحے کی خرید و فروخت
66آپ کی رائے
ترک وطن -- آپ کا تجربہ کیسا رہا؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد