BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام کے خلاف مقدمات: سوالات
صدام کو امریکی قبضے کے بعد ان کے عہدے سے معزول کردیا گیا تھا
عراق کے معزول صدر صدام حسین کو عدالت کی جانب سے 1982 میں 148 افراد کی ہلاکت کے خلاف پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس مقدمے میں ان کے چھ دیگر ساتھیوں کو بھی سزا سنائی گئی ہے۔ چھ میں سے دو کو موت جبکہ چار کو قید کی سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ ساتویں فرد کو ناکافی شہادتوں کی بنا پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

سزا کیا ہے؟
صدام کو شیعہ اکثریتی علاقے دجیل میں 140 افراد کی ہلاکت میں کردار ادا کرنے پر پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان افراد کو صدام پر ایک ناکام قاتلانہ حملے کے بعد گرفتار کرکے بعد ازاں ہلاک کردیا گیا تھا۔

آگے کیا ہوگا؟

عراق کے قانون کے مطابق قتل کے مقدمات میں سزائیں دس دن کے اندر از خود اپیل کے لیئے نو رکنی ججوں کے چیمبر کے پاس چلی جاتی ہیں، چاہے ملزم کوئی بھی ہو۔ اس اپیل کو سماعت کے لیئے منظوری میں کم از کم بیس دن لگ سکتے ہیں۔ اگر موت کی سزا برقرار رکھی جاتی ہے تو تیس دن کے اندر اندر اس سزا پر عمل درآمد ضروری ہے۔ اور عراق کی سہ رکنی صدارت کے اس پھانسی کے حکم نامے پر دستخط ضروری ہیں۔ پھانسی صرف لٹکا کردی جاتی ہے تاہم صدام حسین فائرنگ سکواڈ کے ذریعے موت کی درخواست کرچکے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا انہیں انفال کیس کے ختم ہونے سے قبل پھانسی دی جا سکتی ہے یا نہیں۔

 دجیل میں گرفتاریاں اور ہلاکت ایک قانونی عمل تھا ان لوگوں کے خلاف جو ریاست کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتے تھے
صدام کے وکلاء دفاع

اس کے ساتھ ہی ملزمان کو دوسرے الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جن میں 1991 شیعوں کے استحصال یا ایران اور کویت کے ساتھ جنگیں شامل ہیں۔

صدام نے دجیل کا مقدمہ کیسے لڑا؟

مقدمے کی کارروائی کے آغاز سے ہی صدام کے وکیل نے عدالتی استحقاق کے بارے میں سوالات جاری رکھے۔ ان کے جانب سے پیش ہونے والے عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دجیل میں ہلاک ہونے والے افراد کو ایک منصفانہ مقدمہ کے بعد ہی موت کی سزا دی گئی۔ صدام کے وکلائے دفاع نے دلیل دی کہ گرفتاریاں اور ہلاکت ایک قانونی عمل تھا ان لوگوں کے خلاف جو ریاست کے سربراہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔

صدام کے تین وکیلوں کو قتل کردیا گیا جس کے بعد ان کے مؤکلوں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور صدام حسین نے بھوک ہڑتال کی۔

عدالتی کارروائی کے اختتام سے قبل صدام نے عدالت کو لکھے ایک خط میں کہا کہ مقدمہ امریکی خواہشات کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔

کیا عدالتی کارروائی شفاف ہے؟

عدالت کی کارروائی بغداد میں عراق کی خصوصی ٹربیونل میں سخت حفاظتی انتظامات کے تحت چلائی گئی۔ پانچ ججوں پر مشتمل ایک پینل فلم بند کی گئی عدالتی کارروائی کا جائزہ لیتا رہا ہے۔ بہت سے بین الاقوامی مقدمات کی طرح، صدام پر مقدمہ ان کے اپنے ہی لوگوں کے ذریعے چلایا گیا ہے۔

ملزمان نے ذاتی طور پر اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات سنے ہیں اور سابق عراقی صدر کو اپنے عینی شاہدین کو خود بلوانے کا حق حاصل تھا۔

انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے اس قانونی عمل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں جرم ثابت کرنے کے لیئے شکوک وشبہات سے بالاتر اس معیار کو برقرار نہیں رکھا جاتا جو عالمی مقدمات کے لیئے تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف عراقی ٹربیونل میں صرف جرم کو ہی ثابت کرنا ہے۔

ٹربیونل امریکی قبضے کے بعد قائم کیا گیا تھا اور کچھ افراد کی جانب سے ٹربیونل کے قیام سے قبل اس کی قانونی حیثیت کے بارے سوالات اٹھائے گئے۔ تین وکیلوں کے قتل اور دجیل مقدمے کے اصل جج کی تبدیلی پر بھی اعتراضات کیے گئے۔

مقدمہ میں باقی ملزمان کون ہیں؟

دجیل مقدمے میں سات میں سے دو ملزمان برزان التکریت (انٹیلجنس سروس کے سابق سربراہ) اور طحہٰ یاسین رمضان (سابق نائب صدر) معزول صدر کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ پانچ دیگر ملزمان، سابق جج الوید حامد البندیر اور بعث پارٹی کے چار سابق عہدے دار عبداللہ خادم روئد، مظہر عبداللہ روئد، علی دعیم علی اور محمد ازاوی علی پر بھی دجیل ہلاکتوں کی ذمہ دار ڈالی گئی ہے۔

صدام حیسن کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سامنے آتے ہی ان کے آبائی شہر تکریت میں ردعمل

انفال کیس کے اہم ملزم علی حسن ماجد جنہیں کیمکل علی کے نام سے جانا جاتا ہے، معزول صدر کے کزن ہیں۔ بقیہ چھ میں سابق وزیر دفاع سلطان ہاشم احمد، ساوق انٹیلجسن چیف صابر عبدالعزیز ، سابق ریپبلکن گارڈ کمانڈر حسین راشد التکریت، ساوق گورنر طاہر محمد العنائی اور سابق فوجی کمانڈر فرحان البجوری شامل ہیں۔

انفال کیس کیا ہے؟

صدام پر 1980 کے آخر میں کردوں کے خلاف نسل کشی، جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں۔ دیگر ملزمان پر جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات لگائے گئے ہیں لیکن صدام حیسن کے کزن علی حسن ماجد پر نسل کشی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ جنوبی عراق میں بسنے والے کردوں کو ان کے علاقوں سے زبردستی بے دخل کرنے کے لیئے فوجی آپریشن کرکے قتل اور بے دخل کیا گیا۔ عدالت کی کارروائی کے آغاز پر وکیل استغاثہ نے بتایا تھا کہ تقریباًایک لاکھ اسی ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صدام کے استدعا کرنے سے انکار کے بعد جج نے ان کی طرف سے صحت جرم سے انکار کی درخواست داخل کی تھی۔ صدام نے عدالت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا اور اسے امریکی قبضے کا ایک ہتھیار کہا تھا۔

اسی بارے میں
صدام حسین کو پھانسی کی سزا
05 November, 2006 | صفحۂ اول
صدام پھر عدالت سے باہر
26 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد