صدام پھر عدالت سے باہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کو رواں ہفتے کے دوران تیسری مرتبہ سماعت کے دوران جج سے بحث کرنے پر عدالت سے باہر نکالاگیا ہے۔ اس ہفتے میں یہ تیسری مرتبہ ہوا ہے کہ ان کو مقدمے کی کارروائی کے دوران باہر نکالا گیا ہو ـ عراق کے سابق صدر سے عدالت میں خاموش رہنے کی بار بار درخواست کی گئی لیکن جب وہ باز نہ آئے توانہیں باہر نکال دیا گیا ـ اس سے پہلے جج اریبی الخلیفہ نے انہیں خبرادرار کیا تھا کہ وہ حد ادب برقرار رکھیں ـ جج نے صدام حسین سے کہا ’ آپ ایک ملزم ہیں، آپ کے کچھ حقوق اور فرائص ہیں، آپ اپنی صفائی پیش کر سکتے ہیں، گواہوں سے سوال کر سکتے ہیں، اور میں ان سب کی اجازت دینے کے لئے تیار ہوں، لیکن یہ عدالت ہے کوئی سیاسی میدان نہیں ـ اور عدالت کا احترام نہ کر کے آپ اپنے مقصد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘ صدام حسین نے جب اس کا جواب ایک تحریری بیان پڑھ کر دینا چاہا تو ان کا مائیکروفون بند کر دیا گیا۔ ان کے ساتھی ملزمان نے اس پر جب احتجاج کیا تو جج نے صدام حسین کو عدالت سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی مقدمے کے ایک اور ملزم اور سابق عراقی وزیر دفاع سلطان ہاشم احمد الطائی کو بھی کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا گیا۔ صدام حسین اور ان کے چھ ساتھی ملزمان کے وکلاء نے مقدمے کے جج کی تبدیلی پر پہلے ہی عدالت کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق یہ حکومت کی طرف سے کارروائی میں مداخلت کے مترادف ہے۔ جج الامیری کو، جو پہلے مقدمے کی سماعت کر رہے تھے، صدام حسین سے نرمی برتنے کے الزا م میں برطرف کر دیا گیا تھا ـ | اسی بارے میں عراق میں تشدد صدام دور سے زیادہ21 September, 2006 | آس پاس صدام اور وکلاء عدالت سے باہر20 September, 2006 | آس پاس صدام حسین ڈکٹیٹر نہیں تھے: جج14 September, 2006 | آس پاس صدام مقدمہ: ’جج عہدہ چھوڑ دیں‘13 September, 2006 | آس پاس ’صدام کا القاعدہ سے تعلق نہیں‘09 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||