صدام اور وکلاء عدالت سے باہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سابق سربراہ صدام حسین پر عراقیوں کے قتل عام کے الزام پر چلائے جانے والے مقدمے کے دوران جج نے انہیں عدالت سے باہر نکل جانے کا حکم دیا۔ صدام حسین نے امر محمد العريبي، کو جج نامذد کئیے جانے پر احتجاجاً عدالت میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا جس پر جج نے انہیں عدالت سے باہر نکال دینے کا حکم دیا۔ معزول عراقی صدر کو عدالت سے باہر نکال دینے پر ان کے تمام وکلاء بھی عدالت سے باہر چلے گئے اور عدالتی کارروائی ان کی عدم موجودگی میں جاری رہی۔ صدام حسین کا مقدمہ سننے والے پہلے جج کو معزول رہنما کے ساتھ ہمدردی رکھنے کے الزام میں حکومت نے تبدیل کر دیا تھا۔ پرانے جج نے ایک سماعت کے دوران کہا تھا کہ صدام حسین آمر نہیں تھے۔ عراقی کابینہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ حکومت کا خیال ہے کہ جج غیر جانبدار نہیں رہے جس طرح کہ ان کی اس سوچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدام حسین فوجی آمر نہیں تھے۔ کچھ مبصرین نے جج کو تبدیل کیئے جانے پر حکومت پر تنقید کی ہے اور اسے حکومت کی طرف سے مقدمے میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدام حسین کے ساتھ کو منصفانہ سماعت کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے قانونی ماہر نیہال بوتھا نے کہا ہے کہ جج کی تبدیلی عدلیہ کی آزادی کی ایک کھلی خلاف ورزی ہے۔ صدام حسین کے وکلاء کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ عدالت کی کارروائی میں اس وقت تک شامل نہیں ہوں گے جب تک حکومت کی طرف سے مقدمے میں مداخلت ختم نہیں ہو جاتی۔ | اسی بارے میں صدام مقدمہ: ’جج عہدہ چھوڑ دیں‘13 September, 2006 | آس پاس صدام حسین ڈکٹیٹر نہیں تھے: جج14 September, 2006 | آس پاس صدام کیس: گیس حملے کی سماعت22 August, 2006 | آس پاس بھوک ہڑتال، صدام حسین ہسپتال میں 23 July, 2006 | آس پاس ’صدام کا القاعدہ سے تعلق نہیں‘09 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||