دجیل، صدام کے مبینہ دستخط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول کیے گئے عراقی صدر صدام حسین کی عدالت میں پیشی کے دوران استغاثہ نے ایک ایسی دستاویز پیش کی ہے جس میں مبینہ طور پر صدام حسین نے دجیل میں 148 شیعہ افراد کی ہلاکت کی منظوری دی ہوئی ہے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ 1982 میں صدام کے قتل کی ناکام کوشش کی گئی تھی جس کے انتقام میں سابق عراقی رہنما نے اس دستاویز پر دستخط کرکے دجیل کی ہلاکتوں کی منظوری دی تھی۔ صدام حسین کے وکلائے دفاع کی ٹیم ایک ماہ کے بائیکاٹ کے بعد عدالت میں حاضر ہوئی تاہم جج کی جانب سے تعطل کے لیے انکار پر دو وکلاء نے کمرہ عدالت سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ اب اگلی پیشی بدھ کو ہوگی۔ یہ پیشی ایسے وقت پر ہوئی ہے جب بغداد میں بم حملوں اور تکریت میں صدام حسین کے والد کی قبر کے نزدیک کیے گئے دھماکوں میں 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں صدام حسین کے والد کی قبر کے نزدیکی ایک مسجد کو نقصان پہنچا ہے۔ وکیل استغاثہ جعفر الموساوی نے ایک دستاویز عدالت میں پیش کیا جس پر مبینہ طور پر 14 جون 1984 کی تاریخ تھی اور اس میں دجیل کے 148 شیعہ افراد کے لیئے سزائے موت کی منظوری دی گئی تھی۔ اس پر صدام کے مبینہ دستخط موجود تھے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ دجیل کے ان افراد کو کبھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل وکلاء دفاع نے استغاثہ اور عدالت کے جج کی تبدیلی اور پیشی کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد جانبدار ہیں۔ تاہم یہ مطالبات جج نے رد کردیئے۔ جس پر دو وکلاء دفاع نے واک آؤٹ کیا۔ تاہم ان کی جگہ عدالت کے متعین کردہ ججوں نے لے لی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عدالتی کارروائی کو غیر جانبدار اور منصفانہ ثابت کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ ملزمان کی نمائندگی ان کے اصل وکلاء دفاع ہی کریں۔ اب تک عدالت میں استغاثہ کے 26 گواہان کو پیش کیا جاچکا ہے۔ صدام اور ان کے ساتھی دجیل کے قتل عام کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ اس سے قبل پیر کے روز صدام حسین نے گیارہ روز سے جاری رہنے والی بھوک ہڑتال ’خرابی صحت‘ کے باعث ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ | اسی بارے میں صدام کے مقدمے کا نیا جج مقرر23 January, 2006 | آس پاس مشتعل صدام عدالت میں13 February, 2006 | آس پاس ’صدام کوگرا کر شایدپچھتانا پڑے‘09 February, 2006 | آس پاس صدام غیر حاضر، مقدمہ جاری 01 February, 2006 | آس پاس صدام مقدمہ: بدنظمی، واک آؤٹ29 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||