BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 November, 2006, 02:26 GMT 07:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق کے لئے اہم سنگ میل: بش
زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ صدام کا باب ختم ہونے سے نئے مستقبل کی بنیاد پڑے گی
امریکی صدر جارج بش نے سابق عراقی رہنما صدام حسین کو سزائے موت دیے جانے کے فیصلے کو عراق کی نوزائیدہ جمہوریت کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

صدر بش نے کہا کہ صدام حسین کا شکار بننے والے ان لوگوں کو انصاف مل گیا ہے جنہیں انصاف سے محروم رکھا گیا۔ امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ عراق کو ابھی کافی سفر طے کرنا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ تاریخ ایک منصفانہ اور آزاد سماج کی جانب اسے ایک اہم دن کے طور پر رقم کرے گی۔

اتوار کے روز عدالت نے عراق کے معزول صدر صدام حسین کے خلاف دجیل مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی کی سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں یہ سزا 1982 میں شیعہ اکثریتی علاقے دجیل میں 148 افراد کی ہلاکت میں ان کے کردار پر سنائی ہے۔

صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر عراقیوں کے درمیان ملاجلا ردعمل دیکھا گیا۔ ایک طرف جہاں شیعہ برادری اور کردوں نے سڑکوں پر خوشیاں منائی وہیں دوسری جانب صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں لوگوں نے صدام حسین کے حق میں جلوس نکالا۔ سنی برادری والے کئی علاقوں میں لوگوں نے فیصلے کے خلاف کرفیو کے باوجود مظاہرے کیے۔

عراق کے لئے ایک اہم سنگِ میل
 آج کا دن عراق کے لئے ایک اہم سنگِ میل ہے کیونکہ اب یہ ملک ایک ایسے آزاد اور انصاف پسند معاشرے کی جانب بڑھےگا جس کی بنیاد قانون کی بالادستی پر ہوگی۔ ممکن ہے کہ اگلے چند ہفتے عراقیوں کے لئے مشکل ہوں لیکن صدام حسین اور ان کی حکومت کا باب ختم ہونے سے اتحاد اور بہتر مستقبل کا موقع پیدا ہوگا۔
امریکی سفیر زلمے خلیل زاد
ایران اور کویت، جن پر صدام حسین نے فوج کشی کی تھی، عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے عدالت کے فیصلے کو ایک منصفانہ سزا قرار دیا۔ جبکہ کویتی پارلیمان کے اسپیکر نے کہا کہ سابق عراقی رہنما کو جلد از جلد پھانسی دیدینی چاہیے۔

امریکہ، ایران اور کویت نے جہاں صدام حسین کو پھانسی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا وہیں عراق اور دنیا کے مختلف حصوں سے ردعمل میں عدالتی فیصلے پر اظہارِ اطمینان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب شام نے اس فیصلے کو ’ناجائز‘ قرار دیا اور فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے اسے ’سیاسی‘ قرار دیا۔

عراقی صدر جلال طالبانی نے اپنے ردِ عمل میں کہا: ’میرے خیال میں یہ مقدمہ منصفانہ طور پر چلایا گیا۔ میرے دل میں عراقی عدلیہ کی آزادی کا احترام ہے تاہم جب تک انصاف کے تمام تقاضے پورے نہیں ہو جاتے میں خاموش رہوں گا کیونکہ میرے جملوں سے صورتِ حال پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘

ملک کے وزیر اعظم نوری مالکی نے ٹیلی وژن پر اپنی تقریر میں فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا: ’یہ سزا ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اقتدار کے پورے تاریک دور کے لئے ایک سزا ہے۔‘

نوری المالکی نے مزید کہا: ’ممکن ہے یہ سزا ان بیواؤں اور بچوں کے درد کو کم کر سکے جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کو دنیا کی نظروں سے بچا کر دفن کر دیں، اور ان کے درد جنہیں اپنے جذبات اور خود پر کیے جانے والے ظلم کو دبا دینے پر مجبور کیا گیا، یا ان کے درد جن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘

عراق کی نوزائیدہ جمہوریت کے لئے اہم سنگ میل: جارج بش
وائٹ ہاؤس نے بھی صدام حسین کو سزائے موت کے فیصلہ کو خوش آمدید کہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا: ’آج کا دن عراق کے عوام کے لئے ایک اچھادن ہے۔‘ جبکہ یورپی یونین نے عراقی حکام سے اپیل کی کہ سزائے موت پر عمل نہ کیا جائے اور عراقی سماج میں مفاہمت کی کوششیں کی جائیں۔

برطانیہ کی خارجہ سیکرٹری مارگریٹ بیکٹ نے صدام حسین اور دیگر ملزمان کی سزائے موت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو اپنے جرائم کی سزا ملی ہے۔ بیکٹ نے کہا کہ صدام حسین کے دور میں گھناؤنے جرائم ہوئے اور یہی مناسب تھا کہ ان جرائم کے ملزموں کو عراق ہی میں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔

عراق میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا: ’آج کا دن عراق کے لئے ایک اہم سنگِ میل ہے کیونکہ اب یہ ملک ایک ایسے آزاد اور انصاف پسند معاشرے کی جانب بڑھےگا جس کی بنیاد قانون کی بالادستی پر ہوگی۔‘ ’ممکن ہے کہ اگلے چند ہفتے عراقیوں کے لئے مشکل ہوں لیکن صدام حسین اور ان کی حکومت کا باب ختم ہونے سے اتحاد اور بہتر مستقبل کا موقع پیدا ہوگا۔‘

سپین کے وزیرِ اعظم جوزے لوئس زپاٹیرو نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ اگرچہ یورپی اتحاد پھانسی کے خلاف ہے لیکن صدام حسین کو اپنے کیے کی سزا ملی ہے۔ انہوں نے کہا کسی بھی عام شہری یا سیاسی رہنما کی طرح صدام حسین کو بھی اپنے اور اپنی حکومت کے اعمال کا جواب دہ ہونا تھا۔

ججوں کے ساتھ تکرار
عدالت میں ججوں سے صدام کے تیزوتند جملے
صدام بے سکرپٹ اداکار
بے سلاسل صدام عدالت پر چھائے رہے
صدام حسینمقدمے کی اہمیت
صدام مقدمے کی بین الاقوامی بازگشت
صدام حسینصدر سے مجرم
صدام حسین صدر سے قیدی پھِر مجرم
صدام حسینصدام حسین مقدمہ
عدالتی کارروائی کے دوران کب کیا ہوا
صدام کیخلاف کیس
معزول صدر صدام حیسن کے خلاف مقدمات کیوں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد