عراق کے لئے اہم سنگ میل: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے سابق عراقی رہنما صدام حسین کو سزائے موت دیے جانے کے فیصلے کو عراق کی نوزائیدہ جمہوریت کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ صدام حسین کا شکار بننے والے ان لوگوں کو انصاف مل گیا ہے جنہیں انصاف سے محروم رکھا گیا۔ امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ عراق کو ابھی کافی سفر طے کرنا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ تاریخ ایک منصفانہ اور آزاد سماج کی جانب اسے ایک اہم دن کے طور پر رقم کرے گی۔ اتوار کے روز عدالت نے عراق کے معزول صدر صدام حسین کے خلاف دجیل مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی کی سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں یہ سزا 1982 میں شیعہ اکثریتی علاقے دجیل میں 148 افراد کی ہلاکت میں ان کے کردار پر سنائی ہے۔ صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر عراقیوں کے درمیان ملاجلا ردعمل دیکھا گیا۔ ایک طرف جہاں شیعہ برادری اور کردوں نے سڑکوں پر خوشیاں منائی وہیں دوسری جانب صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں لوگوں نے صدام حسین کے حق میں جلوس نکالا۔ سنی برادری والے کئی علاقوں میں لوگوں نے فیصلے کے خلاف کرفیو کے باوجود مظاہرے کیے۔
امریکہ، ایران اور کویت نے جہاں صدام حسین کو پھانسی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا وہیں عراق اور دنیا کے مختلف حصوں سے ردعمل میں عدالتی فیصلے پر اظہارِ اطمینان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب شام نے اس فیصلے کو ’ناجائز‘ قرار دیا اور فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے اسے ’سیاسی‘ قرار دیا۔ عراقی صدر جلال طالبانی نے اپنے ردِ عمل میں کہا: ’میرے خیال میں یہ مقدمہ منصفانہ طور پر چلایا گیا۔ میرے دل میں عراقی عدلیہ کی آزادی کا احترام ہے تاہم جب تک انصاف کے تمام تقاضے پورے نہیں ہو جاتے میں خاموش رہوں گا کیونکہ میرے جملوں سے صورتِ حال پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘ ملک کے وزیر اعظم نوری مالکی نے ٹیلی وژن پر اپنی تقریر میں فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا: ’یہ سزا ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اقتدار کے پورے تاریک دور کے لئے ایک سزا ہے۔‘ نوری المالکی نے مزید کہا: ’ممکن ہے یہ سزا ان بیواؤں اور بچوں کے درد کو کم کر سکے جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کو دنیا کی نظروں سے بچا کر دفن کر دیں، اور ان کے درد جنہیں اپنے جذبات اور خود پر کیے جانے والے ظلم کو دبا دینے پر مجبور کیا گیا، یا ان کے درد جن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘
برطانیہ کی خارجہ سیکرٹری مارگریٹ بیکٹ نے صدام حسین اور دیگر ملزمان کی سزائے موت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان افراد کو اپنے جرائم کی سزا ملی ہے۔ بیکٹ نے کہا کہ صدام حسین کے دور میں گھناؤنے جرائم ہوئے اور یہی مناسب تھا کہ ان جرائم کے ملزموں کو عراق ہی میں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔ عراق میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا: ’آج کا دن عراق کے لئے ایک اہم سنگِ میل ہے کیونکہ اب یہ ملک ایک ایسے آزاد اور انصاف پسند معاشرے کی جانب بڑھےگا جس کی بنیاد قانون کی بالادستی پر ہوگی۔‘ ’ممکن ہے کہ اگلے چند ہفتے عراقیوں کے لئے مشکل ہوں لیکن صدام حسین اور ان کی حکومت کا باب ختم ہونے سے اتحاد اور بہتر مستقبل کا موقع پیدا ہوگا۔‘ سپین کے وزیرِ اعظم جوزے لوئس زپاٹیرو نے اپنے ردِ عمل میں کہا کہ اگرچہ یورپی اتحاد پھانسی کے خلاف ہے لیکن صدام حسین کو اپنے کیے کی سزا ملی ہے۔ انہوں نے کہا کسی بھی عام شہری یا سیاسی رہنما کی طرح صدام حسین کو بھی اپنے اور اپنی حکومت کے اعمال کا جواب دہ ہونا تھا۔ |
اسی بارے میں عدالت: جج اور صدام کی تکرار 05 November, 2006 | آس پاس صدام پر فیصلہ، سخت سکیورٹی04 November, 2006 | آس پاس صدام حسین ڈکٹیٹر نہیں تھے: جج14 September, 2006 | آس پاس صدام نے مقدمے کا بائیکاٹ کر دیا10 July, 2006 | آس پاس عراق: خدشات جو حقیقت بن گئے10 April, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||