صدام مقدمے کی بین الاقوامی بازگشت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین کے خلاف مقدمہ کے بارے میں خیال تھا کہ یہ عراق کی تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا جب اس ملک میں جمہوریت نے آمریت کی جگہ لینا شروع کی۔ تاہم یہ بھی عراق میں افراتفری کے ماحول کی ایک کڑی ثابت ہو سکتا ہے جس نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ مقدمے کے دور رس نتائج دیکھے جائیں تو وہ بین الاقوامی قانون میں ارتقاء کی صورت میں ہو سکتے ہیں جو حکومتی جبر کو اپنے دائرہ اختیار میں لانے کی کوشش میں ہے۔ یہ مقدمہ عراق میں مختلف سطحوں پر جاری جنگ پر اثر انداز ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا کیونکہ اس کے عوامل بہت زیادہ اور گہرے ہیں جو ایک واقعہ سے تبدیل نہیں ہو سکتے چاہے وہ کتنا ہی ڈرامائی کیوں نہ ہو۔ گاؤں دجیل میں ہلاک ہونے والے ایک سو اڑتالیس افراد کے لواحقین کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات باعث اطمینان ہے کہ انصاف ہو گیا۔ شہادتوں کی طاقت پر کوئی شک نہیں ہے۔ گاؤں والوں نے صدام حسین کے روبرو اپنا مؤقف بیان کیا جس سے واضح ہوا کہ صدام حسین نے ملک اپنا تسلط کیسے قائم کیا۔ سابق صدر کا رد عمل بھی غور طلب تھا۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ریاست بغاوت کو کچلنے کے لیے کیوں اقدامات نہیں کر سکتی اور ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ ان کے ایجنڈے پر بہت سے اہم معاملات تھے اور ہر وقت اس بات پر دھیاں نہیں دے سکتے تھے کہ ان کے ماتحت کیا کر رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت کے دائرہ اختیار کو بھی مسترد کیا۔ صدام حسین کے خلاف یہ مقدمہ مستقبل میں ایسے مقدمات میں اہم نظیر ثابت ہوگا جن میں حکمران جو اپنی ذمہ داری سے انکار کریں گے۔ اس مقدمے کا ایک اور اہم پہلو یہ کہ اس کی تمام کارروائی عراقیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اس سے پہلے بہت سے آمروں کے خلاف مقدمات عالمی مداخلت سے ہوئے جیسا کہ نیورمبرگ اور یوگوسلاویہ ٹرائلز میں ہوا۔ اس مقدمے نے رجحاں قائم کیا ہے کہ جو لوگ آمروں کا تختہ الٹتے ہیں یا کسی اور سے ایسا کرواتے ہیں وہ خود مقدمات چلا سکتے ہیں۔ اس مقدمے میں قانونی عمل کے معیار کو بحرحال ملک سے باہر اداروں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے میلکم سمارٹ نے کہا کہ ’ایمنسٹی جیسے بھی حالات ہوں سزائے موت کے خلاف ہے اور ہم اس مقدمے میں بھی سزائے موت کی مذمت کرتے ہیں‘۔ ’ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس مقدمے میں اہم سقم تھے جس وجہ سے سزائے موت زیادہ تشویشناک ہے‘۔ انہوں نے اپنی تنظیم کے اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے عدالت کی خودمختاری اور آزادی اور سیاسی مداخلت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے پہلے جج نے استعفیٰ دے دیا تھا، دوسرے کو بعث پارٹی کا سابق رکن ہونے کی وجہ سے ہٹایا گیا جو اس وقت واحد سیاسی تنظیم تھی اور تیسرے جج کے رشتہ دار اس مقام پر مارے گئے تھے جہاں صدام حسین پر کردوں کو گیس کے ذریعے ہلاک کرنے الزام لگایا جاتا ہے۔ سمارٹ نے کہا کہ مقدمے کے دوران تین وکلائے صفائی قتل ہوئے اور صدام حسین خود ایک سال تک قانونی مشاورت نہیں حاصل کر سکتے تھے۔ اس مقدمے کا شمار بڑھتے ہوئے عالمی ٹربیونلوں کی فہرست میں ہوتا ہے جو نئے قانون وضح کر رہے ہیں جن کا ظالم حکمرانوں پر اطلاق ہو سکے گا۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مقدمہ عراق سے زیادہ بین الاقوامی قانون کے لیے اہم ہے۔ | اسی بارے میں عدالت: جج اور صدام کی تکرار 05 November, 2006 | آس پاس عراق صدام پر فیصلے کا منتظر05 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||