BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 November, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام عدالت پر چھائے رہے

صدام
صدام حسین نے بتدریج یہ بھی سیکھ لیا کہ کس طرح وہ کم سے کم کوشش کے ذریعے اپنے موقف کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز سے پیش کر سکتے ہیں
گزشتہ سال بھر کے دوران بے سلاسل ہو کر کٹہرے میں آنے کے بعد سے اب تک صدام اپنے خلاف مقدموں کی سماعت کرنے والی عدالت پر چھائے رہے ہیں۔

شروع ہی سے عراق اور باہر کی دنیا میں ان کے فطری حامی بھی انہیں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔

وہ توقع کرتے تھے کے لوگ انہیں بچانے کے لیے اپنی زندگیاں وار دیں گے حالانکہ انہوں نے خود، اپنے آپ کو انتہائی بے بسی سے امریکیوں کے سپرد کر دیا۔

لیکن بتدریج اپنے آپ پر ان کا اعتماد بحال ہوتا گیا، کٹہرے میں وہ قدرے بہتر دکھائی دینے لگے، ان کا لباس بھی ان کے پرانے درزی سے تیار کرایا جانے لگا اور انہوں نے یہ بھی سیکھ لیا کہ کس طرح وہ کم سے کم کوشش کے ذریعے اپنے موقف کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز سے پیش کر سکتے ہیں۔

صدام کی توقعات اور روّیہ
 وہ توقع کرتے تھے کے لوگ انہیں بچانے کے لیے اپنی زندگیاں وار دیں گے حالانکہ انہوں نے خود، اپنے آپ کو انتہائی بے بسی سے امریکیوں کے سپرد کر دیا

اس میں ان مقدمات نے بھی اہم کردار ادا کیا جن میں سے پہلا دجیل میں شیعہ مسلمانوں کے ہلاک کیے جانے پر اور دوسرا کردوں کے خلاف تحریکِ انفعال پر بنایا گیا تھا کیونکہ یہ مقدمات کمزور تھے اور تن آسانی سے بنائے گئے تھے۔

ان مقدمات میں کے لیے جمع کی گئی شہادتیں کمزور اور دلائل خاصے غیر موثر تھے۔

شاید اس کے وجہ یہ تھی کہ اس مقدمے میں استغاثہ اور صفائی، دونوں کے وکلاء اسی نظام کے پروردہ تھے جسے خود صدام نے بنایا اور چلایا تھا اور اس نظام میں بالعموم انصاف کا راستہ با امرِ مجبوری ہی چنا جاتا تھا۔

عقیدتاً یا از راہِ حکمت عملی بلاآخر اپنے ساتھ قرآن کا ایک نسخہ بھی لانے لگے اور گاہے گاہے آیات کا حوالہ بھی دینے لگے۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ وہ ججوں اور وکلائے استغاثہ کو ڈانٹنے پھٹکارنے کے لیے بھی آیاتِ قرآنی کا سہارا لیتے۔ کیونکہ ان کے دوسرے طریقے زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوتے تھے۔

صدام حسین
زیرِ زمین وہ پناہ گاہ جہاں سے صدام حسین کو گرفتار کیا گیا
ایک سے زائد بار انہوں نے بھوک ہڑتاک کی دھمکی بھی دی لیکن کبھی کوئی ایسی اطلاع نہیں ملی کہ انہوں نے اس پر عمل بھی کیا ہو۔

دجیل مقدمے کے ابتدائی سماعت کے دوران انہوں نے عدالت اور ججوں کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لیکن پھر بصد عاجزی اپنی بے گناہی ثابت کرنے پر بھی آمادہ ہو گئے۔

لیکن جوں جوں مقدمے کی سماعت آگے بڑھی ان کا اعتماد بھی بحال ہوتا گیا وہ چیخ چیخ کر عدالت سے اصرار کرنے لگے کہ وہ عراق کے حقیقی صدر ہیں اور ججوں اور استغاثے پر واجب ہے کہ ان کا احترام ملحوظ رکھے۔ ان کا موقف تھا کہ انہیں اقتدار سے محروم کرنے کے لیے کی جانے والی دراندازی عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ان کی دفاعی حکمتِ عملی کبھی بھی مربوط دکھائی نہیں دی۔ کیونکہ اگر وہ امریکی دراندازی کے قانونی جواز پر زیادہ نشانہ بناتے تو نسبتاً زیادہ کامیاب رہتے۔

لیکن ہمیشہ ان کی تقاریر بے ترتیبی کی عکاسی کرتی رہیں اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اقتدار سے محرومی ان کی ذہانت پر بھی اثرانداز ہو رہی تھی۔

دجیل مقدمے کے وسط میں انہوں نےاپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں ایک انتہائی موثر تقریر کی لیکن اس کے بعد اس طرح کی شکایات معمول بنتی گئیں اور ان پر توجہ کم سے کم ہوتی گئی۔

اس دوران یہ امریکیوں کی انتہائی انسانیت ہوتی اگر وہ انہیں بیت الخلاء کے استعمال کے دوران دروازہ بند کرنے کی اجازت بھی دے دیتے لیکن جب انہوں نے یہی شکایت عدالت میں کی تو ہر طرف دبی دبی ہنسی گونجنے لگی۔

غیر معیاری مقدمات
 صدام کے خلاف چلائے جانے والے دونوں مقدمات اس معیار سے کہیں کم رہے جو اس کے لیے برقرار رکھا جانا چاہیے تھا

ان کے خلاف چلائے جانے والے دونوں مقدمات اس معیار سے کہیں کم رہے جو اس کے لیے برقرار رکھا جانا چاہیے تھا۔

لیکن خود صدام نے بھی اپنے آپ کو اس وقار اور سنجیدگی سے دور رکھا جو ان لوگوں میں ان کے لیے کوئی ہمدردی پیدا کر سکتی تھیں جن کے لیے وہ ایک عرصے تک دہشت بنے رہے۔

صدام حسینصدر سے مجرم
صدام حسین صدر سے قیدی پھِر مجرم
صداممشتعل صدام
عدالت نہیں یہ تو ایک کھیل ہے: صدام حسین
صدام حسین عدالت میں’امریکہ جھوٹا ہے‘
صدام نے کہا کہ وہ نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس جھوٹا ہے
صدام دجیل میں کیا ہوا؟
صدام حسین پر قائم پہلے مقدمے کی تفصیلات
جیل کےشب وروز
صدام کےساتھی سگار، چِپس اور باغبانی ہیں
’بارہ الزامات کافی‘
حکومت صدام کوسزا دلانے کے لیے پر اعتماد
صدام حسینقید کا ایک سال
صدام حسین کی گرفتاری کو ایک سال ہو گیا ہے۔
اسی بارے میں
صدام حسین تکریت سے گرفتار
14 December, 2003 | آس پاس
صدام ابتداء سے گرفتاری تک
14 December, 2003 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد