صدام عدالت پر چھائے رہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ سال بھر کے دوران بے سلاسل ہو کر کٹہرے میں آنے کے بعد سے اب تک صدام اپنے خلاف مقدموں کی سماعت کرنے والی عدالت پر چھائے رہے ہیں۔ شروع ہی سے عراق اور باہر کی دنیا میں ان کے فطری حامی بھی انہیں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے۔ وہ توقع کرتے تھے کے لوگ انہیں بچانے کے لیے اپنی زندگیاں وار دیں گے حالانکہ انہوں نے خود، اپنے آپ کو انتہائی بے بسی سے امریکیوں کے سپرد کر دیا۔ لیکن بتدریج اپنے آپ پر ان کا اعتماد بحال ہوتا گیا، کٹہرے میں وہ قدرے بہتر دکھائی دینے لگے، ان کا لباس بھی ان کے پرانے درزی سے تیار کرایا جانے لگا اور انہوں نے یہ بھی سیکھ لیا کہ کس طرح وہ کم سے کم کوشش کے ذریعے اپنے موقف کو زیادہ سے زیادہ بہتر انداز سے پیش کر سکتے ہیں۔
اس میں ان مقدمات نے بھی اہم کردار ادا کیا جن میں سے پہلا دجیل میں شیعہ مسلمانوں کے ہلاک کیے جانے پر اور دوسرا کردوں کے خلاف تحریکِ انفعال پر بنایا گیا تھا کیونکہ یہ مقدمات کمزور تھے اور تن آسانی سے بنائے گئے تھے۔ ان مقدمات میں کے لیے جمع کی گئی شہادتیں کمزور اور دلائل خاصے غیر موثر تھے۔ شاید اس کے وجہ یہ تھی کہ اس مقدمے میں استغاثہ اور صفائی، دونوں کے وکلاء اسی نظام کے پروردہ تھے جسے خود صدام نے بنایا اور چلایا تھا اور اس نظام میں بالعموم انصاف کا راستہ با امرِ مجبوری ہی چنا جاتا تھا۔ عقیدتاً یا از راہِ حکمت عملی بلاآخر اپنے ساتھ قرآن کا ایک نسخہ بھی لانے لگے اور گاہے گاہے آیات کا حوالہ بھی دینے لگے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ وہ ججوں اور وکلائے استغاثہ کو ڈانٹنے پھٹکارنے کے لیے بھی آیاتِ قرآنی کا سہارا لیتے۔ کیونکہ ان کے دوسرے طریقے زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوتے تھے۔
دجیل مقدمے کے ابتدائی سماعت کے دوران انہوں نے عدالت اور ججوں کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لیکن پھر بصد عاجزی اپنی بے گناہی ثابت کرنے پر بھی آمادہ ہو گئے۔ لیکن جوں جوں مقدمے کی سماعت آگے بڑھی ان کا اعتماد بھی بحال ہوتا گیا وہ چیخ چیخ کر عدالت سے اصرار کرنے لگے کہ وہ عراق کے حقیقی صدر ہیں اور ججوں اور استغاثے پر واجب ہے کہ ان کا احترام ملحوظ رکھے۔ ان کا موقف تھا کہ انہیں اقتدار سے محروم کرنے کے لیے کی جانے والی دراندازی عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود ان کی دفاعی حکمتِ عملی کبھی بھی مربوط دکھائی نہیں دی۔ کیونکہ اگر وہ امریکی دراندازی کے قانونی جواز پر زیادہ نشانہ بناتے تو نسبتاً زیادہ کامیاب رہتے۔ لیکن ہمیشہ ان کی تقاریر بے ترتیبی کی عکاسی کرتی رہیں اور شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اقتدار سے محرومی ان کی ذہانت پر بھی اثرانداز ہو رہی تھی۔ دجیل مقدمے کے وسط میں انہوں نےاپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں ایک انتہائی موثر تقریر کی لیکن اس کے بعد اس طرح کی شکایات معمول بنتی گئیں اور ان پر توجہ کم سے کم ہوتی گئی۔ اس دوران یہ امریکیوں کی انتہائی انسانیت ہوتی اگر وہ انہیں بیت الخلاء کے استعمال کے دوران دروازہ بند کرنے کی اجازت بھی دے دیتے لیکن جب انہوں نے یہی شکایت عدالت میں کی تو ہر طرف دبی دبی ہنسی گونجنے لگی۔
ان کے خلاف چلائے جانے والے دونوں مقدمات اس معیار سے کہیں کم رہے جو اس کے لیے برقرار رکھا جانا چاہیے تھا۔ لیکن خود صدام نے بھی اپنے آپ کو اس وقار اور سنجیدگی سے دور رکھا جو ان لوگوں میں ان کے لیے کوئی ہمدردی پیدا کر سکتی تھیں جن کے لیے وہ ایک عرصے تک دہشت بنے رہے۔ |
اسی بارے میں صدام مقدمے کا ایک وکیل ہلاک 21 October, 2005 | آس پاس انڈرویئر فوٹو:صدام مقدمہ کریں گے21 May, 2005 | آس پاس اسیری اور صدام کی مصروفیات03 July, 2004 | آس پاس صدام محافظ کی دغابازی کا شکار 27 March, 2004 | آس پاس صدام حسین کی غیر سرکاری تصاویر17 January, 2004 | آس پاس کون ساصدام، زیادہ خطرناک؟16 December, 2003 | آس پاس صدام حسین تکریت سے گرفتار14 December, 2003 | آس پاس صدام ابتداء سے گرفتاری تک14 December, 2003 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||