صدام مقدمے کا ایک وکیل ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین کے خلاف مقدمے میں ان کے ایک ساتھی کا دفاع کرنے والے وکیل کو اغوا کے ایک دن بعد ہلاک کر دیا گیا ہے۔ عراقی وکلا کی تنظیم کے ایک اہلکار دیا السعدی کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ’سعدون نوصوف الجنابی کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور اس کی تصدیق بھی ہو چکی ہے‘۔ سعدون نوصوف الجنابی کو جمعرات کی شام مشرقی بغداد میں ان کے دفتر سے لے جایا گیا تھا۔ وہ صدام حسین کے ایک شریکِ الزام عود حامد البندر کے وکیل تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق ان کے ساتھ ہی سات دوسرے افراد کو بھی لے جایا گیا تھا۔ صدام حسین کے خلاف مقدمے کا آغاز بدھ سے ہوا ہے اور پہلی سماعت کے بعد ہی مزید سماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ یہ مقدمہ 1982 میں 148 افراد کی ہلاکتوں پر بنایا گیا ہے۔ اور صدام حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے ان ہلاکتوں کا حکم بغداد کے شمال میں الدجیل کے مقام پر خود پر مبینہ قاتلانہ حملے کے بعد دیا تھا۔ مقدمے کے آغاز میں ہی صدام حسین نے عدالت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار دیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ ان کے علاوہ سات دوسرے افراد نے بھی ایک سو چالیس سے زائد اہلِ تشیع کو ہلاک کرنے میں شریک ہونے کے الزام سے انکار کیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||