اسیری اور صدام کی مصروفیات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیا صدام حسین نے امریکہ کے قبضے میں وہ کچھ پا لیا ہے جو وہ اقتدار میں رہ کر نہیں کر سکے تھے۔ وزن کم کرنے میں کامیابی؟ امریکہ کے جائینٹ چیف آف سٹاف کے سربراہ جنرل رچرڈ مائرز کا کہنا ہے کہ عراق کے سابق صدر نے دسمبر دو ہزار تین میں اپنی گرفتاری کے بعد جیل میں ورزش کر کے تقریباً پانچ کلو گرام وزن کم کیا ہے۔ انہوں نے فوکس نیوز کوبتایا کہ ’میرا خیال ہے کہ اس نے جان بوجھ کر بارہ پونڈ وزن کم کیا ہے اور وہ دن میں دو دفعہ ورزش کرتا رہا ہے۔ ورزش کرنے کے لیے اس کے پاس مجھ سے زیادہ وقت تھا‘۔ اس وقت تک یہ سوالات کیے جا رہے تھے کہ کیا صدام بیمار تھا یا جیل میں اس کو اچھا کھانا نہیں مل رہا تھا۔ صدام کو جب تکرت تہہ میں حانے سے گرفتار کیا گیا تھا تو ان کے ساتھ دو خانسامے اور کچھ چاکلیٹ موجود تھی۔ اپنے اقتدار کے زمانے میں صدام پر الزام تھا کہ وہ ’تیل کے بدلے خوراک‘ کے پروگرام کے تحت ملکی سرمایہ اپنی آسائیشوں پر صرف کرتے رہے۔ اس وقت برطانیہ کے وزیر خارجہ ٹونی لائڈ نے کہا تھا کہ صدام بیمار بچوں کے لیے دواؤں اور خوراک سے زیادہ اپنے قریبی ساتھیوں کے لیے عیاشی کا سامان مہیا کرنے میں زیادو دلچسپی رکھتے ہیں۔ صدام کی شاہ خرچیوں کے قصّے عام تھے۔ ان کے تمام محلات میں ہر روز بڑی دعوتیں ہوتی تھی کیونکہ صدام کسی بھی محل میں کھانے کے لیے جا سکتے تھے۔ لیکن وہ وزن کے معاملے میں بھی سنجیدہ تھے۔ عراق کے خلاف کارروائی سے کچھ ہی عرصہ پہلے صدام نے حکم دیا تھا کہ ایسے تمام فوجیوں کو جن کا وزن زیادہ ہوا ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اتفاق سے عرب دنیا کے پریس میں صدام کی بیٹی رغاد کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اردن میں جلاوطنی کے دوران اپنی شخصیت کو نکھارنے میں مصروف ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے جسم کو خوبصورت بنانے کے لیے کافی جتن کیے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ صدام کے پاس مقدمات کی سماعت کے دوران ورزش کرنے کے لیے کافی وقت ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||