BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 July, 2004, 00:58 GMT 05:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام: عراقیوں کا ملا جلا رد عمل
صدام حسین
صدام حسین نے کورٹ کے غذات پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا
عراقیوں نے معزول صدر صدام حسین کی عدالت میں پیشی اور ان پر جنگی جرائم کے تحت فرد جرم عائد کیے جانے پر ملا جلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

عراق کے نائب وزیر خارجہ حامد البایاتی نے کہا ہے کہ صدام حسین کے دور حکومت میں بدترین جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور عراقی عوام انہیں سزائے موت دیئے جانے سے کم کسی انصاف پر مطمئن نہیں ہوں گے۔

لیکن بعض عراقیوں نے صدام حسین کی عدالت میں پیشی کو امریکی پراپیگنڈا قرار دیا۔

کچھ عراقی ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے سلسلے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا ضرورت ہے لیکن ملک کو درپیش کچھ مسائل ایسے ہیں جنہیں پہلے حل کیا جانا ضروری ہے۔

کویت، جس پر صدام حسین نے سن انیس سو نوے میں حملہ کیا تھا، نے انہیں جنگی مجرم قرار دیا ہے۔

جمعرات کے روز جب عراق کے سابق حکمراں صدام حسین کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ حقیقی مجرم امریکی صدر بش ہیں۔ وہ عراق میں ایک خفیہ مقام پر قائم ایک عدالت میں ایک عراقی جج کے سامنے اپنا دفاع کر رہے تھے۔

صدام حسین
’میں نہیں، بش مجرم ہیں‘
انہوں نے 1990 میں کویت پر حملے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ وہ اب بھی عراقی صدر ہیں۔

انہوں نے خصوصی عدالت کے اختیارات کو مسترد کر دیا۔

صدام حسین کو ٹربیونل کے سامنے ہتھکڑیوں میں لایا گیا۔ان کی کمر کے گرد بھی ایک زنجیر دکھائی دے رہی تھی۔ ان کی داڑھی چھوٹی تھی اور وہ پہلے کی نسبت دبلے اور بوڑھے نظر آ رہے تھے۔

عدالتی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ سابق عراقی صدر کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی لیکن جب ان سے کاغذات پر دستخط کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق صدام حسین نے اس خصوصی عدالت کو ’ایک ڈرامہ‘ قرار دیا اور کہا کہ اصلی مجرم امریکی صدر جارج بش ہیں۔

گزشتہ سال دسمبر میں صدام حسین کی گرفتاری کے بعد یہ ان کی پہلی تصاویر ہیں۔

جب انہیں اپنی شناخت کی تصدیق کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا ’میں صدام حسین ہوں، عراق کا صدر‘۔

ان کو ان کے خلاف لگائے گئے سات الزمات پڑھ کر سنائے گئے جن میں 1990 میں کردوں کے خلاف ہلابجا میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی جنگ کے بعد 1991 میں کردوں اور شعیہ برادری کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔

صدام حسین نے 1990 میں کویت پر جارحیت اور فوج کشی سے انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا: ’بطور ایک عراقی تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ کویت پر فوج کشی ہوئی جب کویت عراق کا حصہ ہے‘۔

اس پیشی کی ٹی وی تصاویر سماعت کے ختم ہو جانے کے بعد نشر کی جائیں گی۔ سات ماہ قبل صدام حسین کی گرفتاری کے بعد سے یہ ان کی پہلی تصاویر ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد