صدام حسین کو پھانسی کی سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں ایک عدالت نے عراق کے معزول صدر صدام حسین کے خلاف دجیل مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے انہیں یہ سزا 1982 میں شیعہ اکثریتی علاقے دجیل میں 148 افراد کی ہلاکت میں ان کے کردار پر سنائی ہے۔ صدام کے بھائی برزان تکریتی اور مقدمے کے ایک اور ملزم سابق جج ایواد حامد البندیر کو سزائے موت کا حکم دیا گیا ہے جبکہ نائب صدر طحٰہ یاسین رمضان کو عمر قید اور بعث پارٹی کے تین عہدے داروں کو پندرہ پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے مقدمے کے ایک ملزم محمد آزاوی علی کو ناکافی شہادتوں کی بناء پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ رہائی کا حکم پانے والے آزاوی علی دجیل میں سابق حکمران بعث پارٹی کے ایک عہدے دار تھے۔ عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے ٹیلی وژن پر اپنی تقریر میں فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ’ یہ سزا ایک شخص کے خلاف نہیں بلکہ اس کے اقتدار کے پورے تاریک دور کے لیے ایک سزا ہے۔‘ نوری المالکی نے مزید کہا ’ممکن ہے یہ سزا ان بیواؤں اور بچوں کے درد کو کم کر سکے جنہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کو دنیا کی نظروں سے بچا کر دفن کر دیں، اور ان کے درد جنہیں اپنے جذبات اور خود پر کیے جانے والے ظلم کو دبا دینے پر مجبور کیا گیا، یا ان کے درد جن کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘ وائٹ ہاؤس نے بھی صدام حسین کو سزائے موت کے فیصلہ کو خوش آمدید کہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا ’آج کا دن عراق کے عوام کے لیئے ایک اچھادن ہے۔‘ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جیسے ہی فیصلہ سنایا گیا سابق رہنما شدید صدمے کی کیفیت میں نظر آئے۔ تاہم بی بی سی کے ورلڈ افیئر ایڈیٹر جان سمپسن کا کہنا ہے کہ فیصلے کے بعد عدالت کے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے صدام کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ’یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے وہ سوچ رہے ہوں کہ میں یہاں آکر جو کرنا چاہتا تھا وہ میں نے کر لیا‘۔ صدام کو جب عدالت میں بلایا گیا تو انہوں نے گہرے رنگ کا سوٹ جبکہ سفید قمیص پہنی ہوئی تھی اور وہ قرآن اٹھائے عدالت میں داخل ہوئے اور اپنی مقررہ نشت پر آ کر بیٹھ گئے۔ جج عبدالرحمن نے صدام حسین کو فیصلہ سنانے سے قبل اپنی جگہ پر کھڑے ہونے کا حکم دیا لیکن صدام نے ان کا یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا مگر عدالتی حکام نے انہیں زبردستی کھڑا کردیا۔ عدالتی فیصلے کے منظر عام پر آنے کے کچھ دیر بعد ہی بغداد میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ چھ ملین افراد پر مشتمل بغداد شہر میں دن بھر کا کرفیو لگا دیا گیا ہے اور کرفیو کے دوران صدام حسین کے حامیوں کی جانب سے کسی ممکنہ تشدد کے خطرے کے پیش نظر ہر قسم کی چھوٹی بڑی گاڑیوں کی آمدو رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور شہر کا ائیر پورٹ بند کردیا گیا ہے۔ صدام کے آبائی قصبے تکریت سمیت بغداد کے آس پاس کے علاقوں میں بھی کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ صدام کی گرفتاری کو تین سال ہوچکے ہیں اور اس دوران عراق میں تشدد کی کارروائیاں بڑھنے سے خانہ جنگی کا خطر پیدا ہو گیا ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کچھ عراقیوں کا خیال ہے کہ عدالت کے فیصلے سے صورت حال میں بہتری آئے گی۔ |
اسی بارے میں صدام پر فیصلہ، سخت سکیورٹی04 November, 2006 | آس پاس عراق صدام پر فیصلے کا منتظر05 November, 2006 | آس پاس صدام پھر عدالت سے باہر26 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||