صدام حسین کی درخواستِ مفاہمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سابق صدر صدام حسین نے عراق میں بسنے والی مختلف قوموں سے مفاہمت کی درخواست کی ہے۔ اپنے اوپر لگائے گئے نسل کشی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیئے صدام ایک بار پھر منگل کو بغداد کی ایک عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ انہوں نے عدالت میں کہا’میں تمام عراقیوں، عربوں اور کردوں سے مفاہمت اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کی اپیل کرتا ہوں‘۔ صدام حسین اور چھ دیگر افراد کو سن انیس سو اسی کے آخر میں ملک کے جنوبی حصے میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے ذریعے نسل کشی کے الزامات کا سامنا ہے۔ بغداد کی ایک عدالت نے دو دن قبل صدام کو دجیل کیس میں پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ فوجی آپریشن انفال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں مبینہ طور پر ایک لاکھ اسی ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے بہت سے افراد زہریلی گیس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ صدام حسین نے پیغمبرِ اسلام اور حضرت عیسٰی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مخالفین کو معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ دجیل مقدمے میں صدام کو پھانسی کی سزا کے اعلان کے بعد بغداد شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں لگایا گیا کرفیو اٹھا لیا گیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا عراقی حکام پھانسی کی سزا پر عمل درآمد سے قبل انفال کیس کے فیصلے کا انتظار کریں گے یا نہیں۔ 1982 میں شیعہ اکثریتی علاقے دجیل میں صدام پر ناکام قاتلانہ حملے کے جرم میں 148 افراد کو گرفتار کرنے کے بعد ہلاک کردیا گیا تھا۔ صدام حسین کو اسی مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ عراق میں وزیراعظم نور المالکی کی شیعہ حکومت واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ صدام کو جتنی جلدی ہو سکے پھانسی دے دی جائے لیکن کردوں کی کچھ سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ پھانسی سے قبل انفال کیس کا فیصلہ ضروری ہے۔ ان مقدمات کے علاوہ صدام حسین پر 1991 میں شیعہ بغاوت اور ملک کے جنوبی حصے میں واقع دلدلی علاقوں میں رہنے والوں پر ظلم کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں جس پر انہیں مقدمات کا سامنا کرنے کی توقع ہے۔ |
اسی بارے میں صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | صفحۂ اول ’والد شیر تھے، شیر ہی رہیں گے‘16 December, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||