BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 November, 2006, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق:’بد عنوانی سےاربوں کانقصان‘
مزاحمت کار
عراقی مزاحمت کاری میں امریکی پیسہ استعمال ہو رہا ہے: امریکی حکام
عراق میں تعمیر نو کے کام کی نگرانی کرنے والے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراق کی حکومت میں بدعنوانی کی وجہ سے اربوں ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اِس رقم سے مزاحمت کاروں کی مدد بھی ہورہی ہے۔

عراق میں تعمیرِ نو کے کام کے سپیشل انسپکٹر جنرل سٹورٹ بوون نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عراق کو اب ایک دوسری طرح کی مزاحمت کاری کا سامنا ہے جو کہ فراڈ اور بدعنوانی پر مشتمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اِسے دوسری مزاحمت کاری کہونگا۔ ’اِس خرد برد کی گئی رقم سے مجرم امیر کبیر تو نہیں ہورہے لیکن اکثر یہ رقم مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ملیشیا یا مزاحمت کاروں تک پہنچ جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں یہ رقم بھی کام آتی ہے‘۔

تیل کا حساب
 امریکیوں نے تیل کی تنصیبات پر میٹر نصب نہیں کئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میٹر ان تنصیبات پر نصب نہیں کیے گئے جو ساحل سے دور گہرے سمندر میں ہیں اور جہاں مزاحمت کاروں کے حملے کا خدشہ بھی نہیں ہے۔’سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکیوں نے یہ میٹر کیوں نہیں لگائے جن سے برآمد ہونے والے خام تیل کا حساب رکھا جاسکے
صدام دور کے وزیر تیل
مسٹر بوون کا اندازہ ہے کہ عراقی حکومت میں بدعنوانی کی وجہ سے ہر سال چار ارب ڈالر تک ضائع ہوجاتے ہیں جو کہ عراق کی قومی آمدنی کے دس فیصد سے زیادہ ہے۔

بوون نے مزید کہا کہ تعمیر نو کی کاوشوں میں رقم کی خرد برد سے بھی بڑی رکاوٹ عراقی حکام کی نا اہلی ہے کیونکہ کئی عراقی حکام محکمہ جاتی فنڈ کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت اور تربیت سے قطعی محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تخمینوں کے مطابق عراق کے بجٹ کا آٹھ سے دس ارب ڈالر ہر سال صرف اِس لیے ضائع ہوجاتا ہے کہ متعلقہ حکام میں اِس رقم کو خرچ کرنے کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ ’اِس بات سے میرا مطلب یہ ہے کہ عراق کی وزارتیں اپنے عملے کی تنخواہیں اور اور ادارے کے دیگر اخراجات کے علاوہ رقم خرچ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتیں‘۔

امریکی حکام کے عراقی حکام پر بدعنوانی کے الزامات ایک طرف لیکن صدام حسین کے دور حکومت میں وزیر تیل رہنے والے احمد چلابی کہتے ہیں کہ امریکیوں نے تیل کی تنصیبات پر میٹر نصب نہیں کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میٹر ان تنصیبات پر نصب نہیں کیے گئے جو ساحل سے دور گہرے سمندر میں ہیں اور جہاں مزاحمت کاروں کے حملے کا خدشہ بھی نہیں ہے۔’سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکیوں نے یہ میٹر کیوں نہیں لگائے جن سے برآمد ہونے والے خام تیل کا حساب رکھا جاسکے‘۔

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں امریکی کانگریس اور سینٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت اور وزیر داخلہ ڈونلڈ رمز فیلڈ کے مستعفی ہونے کے ساتھ جہاں عراق سے امریکی افواج کے جلد انخلاء کے لیے امیدیں مضبوط ہوتی نظر آرہیں ہیں تو وہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ صدام دور کے خاتمے کے بعد سے عراق کے قدرتی وسائل کے استعمال پر نئے سرے سے تفتیش شروع کی جاسکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد