| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدعنوانیوں کے خلاف عالمی معاہدہ
دنیا بھر کے ممالک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانیوں کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ نے پہلی دفعہ ایک بین الاقومی معاہدہ تجویز کیا ہے۔ اس نئے معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو دوسرے ملکوں سے رشوت اور سرکاری خزانے سے لوٹی جانے والی رقوم کو غیر قانونی قرار دے کر اپنے ملک میں آنے سے روکنا ہو گا۔ اس معاہدے کے تحت رکن ممالک اس بات کے بھی پابند ہوں گئے کہ دوسرے ملک سے لوٹی جانے والی رقم سے خریدے گئے اثاثوں کو متعلقہ ملک کے سپرد کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا کہ آئندہ کسی بھی ملک کے بدعنوان لوگوں کو غلط طریقوں سے کمائی جانے والی رقم کسی دوسرے ملک منتقل کرنا آسان نہ ہو گا۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ اس معاہدے میں تجارت میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے اور سیاسی جماعتوں کو رقوم مہیا کرنے کے خلاف کوئی شق نہیں۔ اس معاہدہ پر کے نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ اسپر کم از کم تیس رکن ممالک دستخط کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||