عراق میں ہلاکتیں 100000: وزیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ وہاں جاری تشدد میں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ کے درمیان سویلین مارے گئے ہیں۔ یہ تعداد ہسپتالوں اور مردہ خانوں میں لائے جانے والی لاشوں کی گنتی کے اندازوں پر مبنی ہے۔ عراق میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی اعداد و شمار نہیں تیار نہیں کیے جاتے۔ عراقی وزارت صحت ان لوگوں کے زیراثر ہے جو امریکہ مخالف ایک ریڈیکل شیعہ رہنما کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ وزیر صحت علی الشماری نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں اندازہ اس بات پر مبنی ہے کہ لگ بھگ سو لاشیں روزانہ ہسپتالوں اور مردہ خانوں میں لائی جاتی ہیں۔ گزشتہ اکتوبر برطانوی طبی جریدے دی لانسیٹ نے ایک مطالعے میں کہا تھا کہ عراق میں اب تک چھ لاکھ پچپن ہزار افراد مارے گئے ہیں۔ اس سے کچھ قبل غیرسرکاری تنظیم ’عراق باڈی کاؤنٹ‘ نے ایک مطالعے کے بعد کہا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد پچاس ہزار ہے۔ جمعرات کے روز بغداد کے مرکزی مردہ خانے کے سربراہ نے کہا تھا کہ تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی لگ بھگ ساٹھ لاشیں انہیں روزانہ موصول ہورہی ہیں۔ |
اسی بارے میں 655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے11 October, 2006 | آس پاس عراق:’بد عنوانی سےاربوں کانقصان‘09 November, 2006 | آس پاس صدام حسین کو پھانسی کی سزا05 November, 2006 | آس پاس بغداد میں پولیس کو 83 لاشیں ملیں 04 November, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||