BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ
جم ویب
جم ویب کی جیت نے سینٹ میں بھی ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط کردی۔
ریاست ورجینیا میں سینٹ کی نشست پر ڈیموکریٹ جم ویب کی جیت نے امریکی کانگریس میں ایوان نمائندگان کے ساتھ ساتھ سینٹ میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہوگئی ہے۔

ورجینیا میں سینٹ کی نشست کے حوالے سے جاری اعصاب شکن تجسس اس وقت ختم ہوگیا جب ریپبلیکن امیداوار جارج ایلن نے شکست تسلیم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

کامیاب ہونے کے بعد اپنے پرجوش حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے جم ویب کا کہنا تھا کہ صدر بش کو ’ظالمانہ‘ ریپبلیکن طور طریقے ختم کر دینے چاہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کے پاس بہت زیادہ اختیارات جمع ہوگئے ہیں جنہیں اب کانگریس کو واپس لوٹانا ہے۔

جم ویب کی جیت کے بعد سو نشستوں پر مبنی سینٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی تعداد انچاس ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلیکن پارٹی کو بھی اتنے ہی ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ باقیماندہ دو نشستیں آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کے پاس ہیں۔

تاہم دونوں آزاد امیدواروں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے، اس

بش اور پلوسی
صدر بش نے ایوان نمائندگان کی متوقع سپیکر نینسی پلوسی سے مذاکرات شروع کر دیئے ہیں۔
طرح سینٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کو مجموعی طور پر اکاون ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل ہو جانے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ صدارت کے آخری دو سال جارج ڈبلیو بش کے لیے مشکل ثابت ہونگے۔

سینٹ میں کامیابی سے کانگریس کی اہم کمیٹیوں میں ڈیموکریٹس کو غلبہ حاصل ہو جائے گا اور وفاقی اخراجات بھی ان کے کنٹرول میں آ جائیں گے۔

ادھر صدر بش نے ایوان نمائندگان کی متوقع سپیکر نینسی پلوسی سے مذاکرات شروع کر دیئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سیاستدان اپنے گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر عراق میں (امریکی) کامیابی کے لیے کوشش کریں۔

صدر بش کا کہنا تھا ’میں اپنے اصول تو ترک نہیں کرونگا لیکن نئی تجاویز کے لیے میں تیار ہوں‘۔

یاد رہے کہ نینسی پلوسی نے اپنے ایک بیان میں عراق کے حوالے سے امریکی پالیسی کو ’تباہ کن‘ قرار دیتے ہوئے اسے تبدیل کرنے پر زور دیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق انتخابی نتائج نے جان بولٹن کے اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ رہنے کے امکانات کافی کم کر دیئے ہیں۔ جان بولٹن کی اقوام متحدہ کے لیے نامزدگی کے حوالے سے صدر بش کو کافی تنقید کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں
رمزفیلڈ کی جگہ باب گیٹس
08 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد