BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 November, 2006, 05:55 GMT 10:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلیئر: ایران اور شام بات کی جائے
بلیئر
دونوں ملکوں کو ان نتائج سے متنبہ کیا جانا چاہیے جو خطے کے لیے مجموعی حکمت عملی میں تعاون نہ کرنے کے نتیجے میں پیش آ سکتے ہیں
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اپیل کی ہے کہ عراق اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایران اور شام سے بات کی جانی چاہیے۔

ان کی یہ اپیل ان خبروں کے بعد آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ عراق کے مسقبل پر ایران اور شام سے بات کی جانی چاہیے۔

وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف جوشوا بولٹن نے ٹیلی ویزن پر کہا تھا کہ صدر بش عراق کے بارے میں اس پینل کی تمام تجاویز پر غور کریں گے جسے عراق سٹڈی گروپ کا نام دیا جا رہا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گروپ اس بات کے حق میں ہے کہ امن کے لیے تہران اور دمشق سے رابطے کیے جانے چاہپیں۔

اب برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو ان نتائج سے متنبہ کیا جانا چاہیے جو خطے کے لیے مجموعی حکمت عملی میں تعاون نہ کرنے کے نتیجے میں پیش آ سکتے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ لندن میں خارجہ پالیسی کے بارے میں اپنی اہم تقریر کے دوران ٹونی بلیئر امریکہ سے برطانیہ کے قریبی تعلقات کا دفاع کریں گے۔

وزیراعظم کے ایک معاون نے کہا ہے کہ لندن میں لارڈ میئر کی جانب سے دی جانے والی ضیافت میں خطاب کے دوران مسٹر بلیئر ’شام اور ایران پر ان بنیادوں کی وضژاحت کریں گے جن کی بنیاد پر مشرق وسطٰی میں امن کو فروغ دینے کے لیے تعون کرنا چاہیے اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اس کے نتائج کیا نکل سکتے ہیں‘۔

اسی بارے میں
دوہرا خودکش حملہ، 35 ہلاک
12 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد