عراق:’ماڈل شہر‘ میں ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کےشہرتلعفر میں ایک خود کش حملہ آور نے بم سے لدی لاری کے ذریعہ فوجی چیک پوائنٹ پر حملہ کردیا جس سے کم از کم چودہ افراد کو ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی میڈیکل ذرائع نےاس بات کی اطلاع بی بی سی کو دی ہے۔ اس حملہ میں چار فوجیوں سمیت دس دیگر افرا ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ اس جگہ پر کیا گیا جسے حال ہی میں امریکی صدر جارج بش نے ماڈل شہر قرار دیا تھا۔ اس حملہ کے بعد ممکن ہے کہ امریکہ کو عراق سے متعلق اپنی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کرنی پڑے۔ بغداد سے بی بی سی کے نمائندے فرینک مور کےمطابق تلعفرشہر میں امریکی افواج کی کوششوں کا صاف اثر دکھتا تھا۔ اس سال کی شروعات میں امریکی صدرنے اس شہر میں امن قائم ہونے پراعتماد کا اظہار کیا تھا۔ اس شہر کو کچھ ہی مہینے پہلےامریکی فوج نے القاعدہ سے آزاد کرایا تھا۔ سینیٹر جان وارنر جو دفاعی سروسز کی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے عراق کے اپنے حالیہ دورے سے واپسی کے بعد وہاں کےحالات پر پھر سےجائزہ لینے جیسے دیگر متبادل پر غور کرنے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ حالات مختلف ہوتے جا رہے ہیں اور ایسی صورت میں بااثر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ’ اگر آنے والے دو تین مہینوں میں حالات میں سدھار اور تشدد پر کنٹرول نہیں ہوتا تو ایسے حالات میں امریکی حکومت کو کارروائی کے طریقوں میں تبدیلی کرنی ہو گی‘۔
بی بی سی کے جسٹین ویب کا کہنا ہے کہ جان وارنر کا یہ ایک معمول کا بیان تھا۔ بغداد میں عبوری آتھرٹی کےسابق مشیر لاری ڈائمنڈ نے بی بی سی کو سنیچر کو بتایا کہ امریکہ کے پاس اب دو راستے ہیں یا تو وہ کچھ دن اور یہاں رکے یا پھر عراقی حکومت کو اس کے حال پر چھوڑ کر رفتہ رفتہ عراق چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ’فی الحال ایسی کوئی صورت نظر نہیں آرہی جس سے یہ کہا جا سکے کہ عراق مستقبل قریب میں مغرب کے لیئے ایک بھروسے مند جمہوری ملک کے طور پر سامنے آ سکے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ عراق کو خانہ جنگی سے کیسے بچایا جائے‘۔ | اسی بارے میں بغداد بھر سے 47 لاشیں برآمد16 September, 2006 | آس پاس ’جہادی قوتوں کو تقویت ملی ہے‘27 September, 2006 | آس پاس عراق:خود کش حملہ، 10 فوجی ہلاک11 September, 2006 | آس پاس عراق:بم دھماکہ، دس ہلاک 33 زخمی 13 September, 2006 | آس پاس میرین فوجیوں کیخلاف مقدمہ قتل26 September, 2006 | آس پاس 4000 غیرملکی ہلاک: القاعدہ29 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||