BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 September, 2006, 11:26 GMT 16:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد بھر سے 47 لاشیں برآمد
عراقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی میں اضافے کے باوجود ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے
پولیس کے مطابق بغداد کے مختلف مقامات سے 47 لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس کے ساتھ ہی عراقی دارالحکومت سے حالیہ دنوں میں ملنے والی لاشوں کی تعداد 176 تک پہنچ گئی ہے۔

بیشتر افراد کو تشدد کرکے اور سر یا سینے پر گولی مار کے ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کےمطابق 21 لاشیں مشرقی بغداد سے جبکہ 26 شہر کے مغربی حصوں سے ملی ہیں۔

بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق خدشہ ہے کہ بیشتر ہلاکتیں فرقہ وارانہ فسادات کا نتیجہ ہیں تاہم کچھ کو جرائم پیشہ گروہوں نے نشانہ بنایا ہے۔

ایک ہی روز قبل پولیس نے چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر کی گلیوں سے پچاس لاشیں برآمدکی تھیں۔

اس سال فروری میں شیعاؤں کے مقدس شہر سمارا میں بم حملوں کے بعد سےگزشتہ چھ ماہ کے دوران بغداد میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان جھڑپوں کی ذمہ داری سنی عسکریت پسندوں اور شیعہ ’موت کے ٹولوں‘ پر عائد کی جاتی ہے۔

شمال مغربی بغداد کی گلیوں سے ایسے پرچے ملے ہیں جن میں ہر ایک شیعہ کی ہلاکت کے بدلے میں دس سنیوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کئی مکانات اور دکانوں پر سرخ نشانات لگائے گئےہیں جو یہ وارننگ ہے کہ یہ لوگ یہاں سے چلے جائیں ورنہ انہیں ہلاک کردیا جائے گا۔

عراقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی میں اضافے کے باوجود ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ شہر کی گلیوں میں اضافی امریکی اور عراقی فوجی تعینات ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد