بغداد بھر سے 47 لاشیں برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کے مطابق بغداد کے مختلف مقامات سے 47 لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس کے ساتھ ہی عراقی دارالحکومت سے حالیہ دنوں میں ملنے والی لاشوں کی تعداد 176 تک پہنچ گئی ہے۔ بیشتر افراد کو تشدد کرکے اور سر یا سینے پر گولی مار کے ہلاک کیا گیا ہے۔ پولیس کےمطابق 21 لاشیں مشرقی بغداد سے جبکہ 26 شہر کے مغربی حصوں سے ملی ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق خدشہ ہے کہ بیشتر ہلاکتیں فرقہ وارانہ فسادات کا نتیجہ ہیں تاہم کچھ کو جرائم پیشہ گروہوں نے نشانہ بنایا ہے۔ ایک ہی روز قبل پولیس نے چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر کی گلیوں سے پچاس لاشیں برآمدکی تھیں۔ اس سال فروری میں شیعاؤں کے مقدس شہر سمارا میں بم حملوں کے بعد سےگزشتہ چھ ماہ کے دوران بغداد میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان جھڑپوں کی ذمہ داری سنی عسکریت پسندوں اور شیعہ ’موت کے ٹولوں‘ پر عائد کی جاتی ہے۔ شمال مغربی بغداد کی گلیوں سے ایسے پرچے ملے ہیں جن میں ہر ایک شیعہ کی ہلاکت کے بدلے میں دس سنیوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کئی مکانات اور دکانوں پر سرخ نشانات لگائے گئےہیں جو یہ وارننگ ہے کہ یہ لوگ یہاں سے چلے جائیں ورنہ انہیں ہلاک کردیا جائے گا۔ عراقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی میں اضافے کے باوجود ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ شہر کی گلیوں میں اضافی امریکی اور عراقی فوجی تعینات ہیں۔ | اسی بارے میں بغداد: کٹوشا راکٹ حملہ، 60 ہلاک13 August, 2006 | آس پاس بغداد میں بیس زائرین ہلاک20 August, 2006 | آس پاس بغداد تشدد ، 27 ہلاک، تیس زخمی06 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||