میرین فوجیوں کیخلاف مقدمہ قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے ایک بیان کے مطابق تین امریکی میرین فوجیوں پر ایک عراقی شہری کو قتل کرنے کے الزام میں فوجی ٹرائبیونل میں مقدمہ چلایا جائےگا۔ یہ تین فوجی ان آٹھ لوگوں میں شامل ہیں جن پر ہمدانیہ گاؤں میں رہنے والے ایک باون سالہ عراقی شہری ہاشم ابراہیم عواد کے اغوا اور قتل کا الزام ہے۔ استغاثہ کے مطابق ہاشم ابراہیم کو اغوا کیا گیا، ان کے پیر باندھ کر ان کو گھر سے گھسیٹا گیا اور پھر گولی مار دی گئی تھی۔ پرائیویٹ جان جوٹکا پر الزام ہے کہ انھوں نے ہاشم ابراہیم پر گولی چلائی، کارپورٹ مارشل میگنکالڈا پر ان کو اغوا کرنے کا اور لیفٹیننٹ کارپورل جیری شماتے پر مقتول کے خلاف اپنی بندوق کے استعمال اور تفتیش کاروں کے سامنے جھوٹ بولنے کے الزامات ہیں۔ اگرچہ ارادتاً قتل کے جرم میں امریکہ میں سزائے موت دی جاتی ہے لیکن امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں فوجیوں کے لئے سزائے موت کی درخواست نہیں کی جائے گی۔ واضح رہے کہ کئی امریکی فوجیوں پر عراقی شہریوں کو قتل کرنے کے الزامات ہیں۔ | اسی بارے میں عراق: چھ امریکی فوجی ہلاک 01 November, 2005 | آس پاس ابوغریب: امریکی فوجی کو سزا22 March, 2006 | آس پاس اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار پر مقدمہ28 April, 2006 | آس پاس امریکی فوجی عراقی اشارے سیکھیں گے20 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||