’جہادی قوتوں کو تقویت ملی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس نے خفیہ ایجنسیوں کی مرتب کردہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ عراق پر امریکی حملے سے عالمی سطح پردہشت گردی کو تقویت ملی ہے اور ’جہادیوں‘ کی افرادی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں چار نکات کو اہم قرار دیا گیا ہے (1) بد عنوانی، ناانصافی اور مغربی غلبے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا غصہ، توہین اور بے بسی کا شدید احساس۔ (2) عراق اور جہاد۔ (3) مسلمان اکثریت والی اکثر اقوام میں حقیقی، پائیدار اقتصادی، سماجی اور سیاسی اصلاحات کی سست رفتاری۔ (4) اکثر مسلمانوں میں امریکہ مخالف جذبات کی موجودگی جن کا فائدہ جہادی اٹھاتے ہیں۔ صدربش کے اعلان کے بعد جزوی طور پر جاری کی گئی اس رپورٹ میں ’عالمی دہشت گردی کے رحجانات‘ کے عنوان سے کہا گیا ہے کہ عراق کی جنگ کی وجہ سے امریکہ کے لیئے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس رپورٹ کے اقتباسات نیو یارک ٹائمز میں افشا ہو گئے تھے جس کے بعد صدر بش نے نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ جان نیگرو پونٹے سے کہا ہے کہ اس رپورٹ کو شائع کر دیا جائے تا کہ عوام خود فیصلہ کر سکیں۔ اس رپورٹ کو امریکہ کی تمام سولہ خفیہ ایجنسیوں کی عالمی دہشت گردی کے موضوع پر تیار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عراق میں مسلم شدت پسندی کے نتیجے میں دہشت گرد رہنماؤں کی ایک نئی نسل ابھر رہی ہے اور دہشت گردی کے رحجانات میں افرادی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی پھیلاؤ پیدا ہو رہا ہے اور اگر اسی مرحلے پر ان کا قلع قمع کر دیا جائے تو بہت کم لوگ اس طرف راغب ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر عراق میں بقول امریکہ، دہشت گردی کو شکست ہوجاتی ہے تو پوری دنیا کے دہشت گردوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ صدر بش نے رپورٹ کے اقتباسات اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے پر شدید برہمی ظاہر کی ہے اور کہا تھا کہ رپورٹ کو منکشف کرنے والے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ صدر بش نے رپورٹ کی اشاعت کا اعلان افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کیا۔ اخبار نیویارک ٹائمز نے انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے کہا تھا کہ عراق کی جنگ سے ساری دنیا میں دہشت گردوں کو حوصلہ ملا ہے اور امریکہ کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ دہشت گردی میں پھیلاؤ کس رفتار اور تناسب سے ہو رہا ہے لیکن القاعدہ اور اس وابستہ جو خود کو جہادی قرار دیتے ہیں علیحدہ علیحدہ گروہوں کی شکل بھی اختیار کر رہے ہیں اور ایسے طریقے بھی جن کے ذریعے انسداد دہشت گردی کے لیئے جانے والے اقدامات کا جواب دے سکیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات سے القاعدہ اور اس کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن اس کے باوجود القاعدہ امریکہ اور اس کے مفادات کے لیئے شدید خطرہ ہے۔ رپورٹ میں ایران اور شام کا بھی ذکر ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی کو تقویت دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جہادی یورپ کو اپنا اہم نشانہ سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ وہ یورپ میں مغربی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں عراق میں تشدد صدام دور سے زیادہ21 September, 2006 | آس پاس عراق: خواتین سمیت 44 ہلاک23 September, 2006 | آس پاس عراق:بم دھماکہ، دس ہلاک 33 زخمی 13 September, 2006 | آس پاس ’حالات نہ بدلے تو عراق ٹوٹ جائے گا‘19 September, 2006 | آس پاس عراقی صوبے ذی قار میں اقتدار منتقل21 September, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||