’عراق خانہ جنگی کے دہانے پر ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ عراق خانہ جنگی کے دہانے پر ہے اور اگر وہاں صورتحال پرقابو پانے کے لیے فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو ’ہم خانہ جنگی تک پہنچ جائیں گے۔‘ کوفی عنان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے عراق میں بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔ ادھر عراق کے صدر جلال طالبانی اپنے ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کے لیے ایران سے مدد طلب کی ہے۔ جلال طالبانی نے یہ درخواست ایران کے دارالحکومت تہران پہنچنے کے فورا بعد ایک بیان کے ذریعے کی ہے۔ ایرانی صدر احمدی نژاد نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں عراق کی ہر ممکنہ مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عراقی صدر اپنے ایرانی ہم منصب ملاقات کے علاوہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو ’میرے خیال میں اگر تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صورتحال کو درست کرنے کے لیے فوری اور بڑے پیمانے پر اقدامات نہیں کیے گئے تو ہم خانہ جنگی تک پہنچ سکتے ہیں ۔ ہم وہاں تک تقریبا پہنچ چکے ہیں ۔‘
اسی سال ستمبر میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا کہ عراق اس وقت خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا جسے ٹوٹنے سےبچانے کے لیئے عراقی رہنماؤں اور عالمی برداری کو مل کر فوری اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ستمبر میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے صرف ایک روز پہلے کوفی عنان نے عراق میں خانہ جنگی کے خدشے کا اظہار ایک ایسی میٹنگ میں کیا تھا جہاں امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اور عراق کے صدر جلال طالبانی موجود تھے۔ کوفی عنان نے کہا تھا کہ عراق اور اس کے رہنما ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ اگر وہ سارے عراقیوں کی ضروریات اور مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے قدم اٹھائیں گے تو امن اور خوشحالی اب بھی ممکن ہے لیکن اگر آبادی کے ایک حصے کو الگ تھلگ رکھنے کی کوششیں اور تشدد کا موجودہ چلن جاری رہے گا تو اندیشہ ہے کہ عراقی ریاست بھر پور خانہ جنگی کا شکار ہو کر ٹوٹ جائے گی۔ سن دوہزار تین میں امریکی قیادت میں عراق پر حملے نے خود اقوام متحدہ میں تقسیم پیدا کر دی تھی۔ عراق پر حملہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرار داد کی منظوری کے بغیر ہی کر دیا گیا تھا۔ اس وقت امریکہ اور برطانیہ کا یہ موقف تھا کہ سیکورٹی کونسل کی پہلے سے موجود قرار دادوں کی وجہ سے عراق پر حملہ قانون کے مطابق ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بعد میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹریو میں کہا تھا کہ عراق پر حملہ غیر قانونی تھا۔ | اسی بارے میں عراق کی حالت تشویشناک 25 June, 2004 | آس پاس عراق پر تشویش ہے: اقوام متحدہ16 October, 2004 | آس پاس عراق کے لیے حکمتِ عملی کا فقدان 17 September, 2004 | آس پاس ’اقوامِ متحدہ کو تبدیل ہونا چاہیے‘21 March, 2005 | آس پاس ’امریکہ اور برطانیہ بھی ذمہ دار ہیں،15 April, 2005 | آس پاس ’کوفی عنان کے خلاف نئےمیموز‘15 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||