’خانہ جنگیوں‘ کا امکان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن کے شاہ عبداللہ نے دنیا کو اس خدشے سے خبردار کیا ہے کہ اگلے برس مشرقِ وسطیٰ میں تین خانہ جنگیاں ہو سکتی ہیں۔ امریکی ٹیلی وژن اے بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہ عبداللہ نے کہا کہ خطے میں تصادم اور لڑائی جھگڑے کی قوی امکانی اہلیت موجود ہے جبکہ عراق، لبنان اور فلسطین میں بھی بحرانوں کے امکانات پائے جاتے ہیں جو آگے چل کر خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اردن کے بادشاہ نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فیصلہ کن اقدامات کریں تاکہ خطے میں خوفناک صورتِ حال سے بچا جا سکے۔ شاہ عبداللہ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اصل مسئلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کا ہے اور اگلے چند ماہ میں امن کے عمل کو دوبارہ شروع کرنا بہت اہم ہے۔ شاہ عبداللہ ہفتۂ رواں میں امریکہ کے صدر جارج بش اور عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ دو ہزار سات میں ہم تین خانہ جنگیاں دیکھ رہے ہوں گے۔‘ شاہ عبداللہ نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ خطے کو وسیع تناظر میں دیکھے اور ایران، شام اور عراق کو اکٹھا کرے۔ ’اگر فوری طور پر علاقائی امن کا عمل شروع نہ ہوا تو بات کرنے کے لیے کوئی موضوع ہی نہیں رہے گا۔‘ بش انتظامیہ پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ عراق کے مسئلے پر ایران اور شام کو ساتھ لے کر چلے تاکہ عراق میں جاری خونریزی کو روکا جا سکے۔ | اسی بارے میں غزہ: چندگھنٹوں کی صلح بندی کو خطرہ25 November, 2006 | آس پاس فلسطینی پیشکش مسترد 24 November, 2006 | آس پاس انسانی ڈھال نے حملہ روک دیا19 November, 2006 | آس پاس اسرائیل سے بدلے کی ایرانی دھمکی20 October, 2006 | آس پاس خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے: حماس24 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||