فلسطینی پیشکش مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے فلسطین شدت پسند گروپوں کی طرف سے یہ پیش کش مسترد کر دی ہے کہ اگر اسرائیل غزہ پر فوجی کشی روک دے تو وہ اسرائیلی علاقوں پر راکٹ فائر کرنا بند کر دیں گے۔ اسرائیلی حکومت کی ترجمان مری ایسن نے کہا ہے کہ فلسطینی شدت پسند گروپوں نے صرف جزوی جنگ بندی کی پیش کش کی تھی۔ فلسطینیوں کی اس پیش کش پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راکٹ باری روکنے کی پیش کش سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امن کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اسرائیل کو مشروط جنگ بندی کی پیش کش فلسطینیوں شدت پسندوں کی تمام گروپوں کے اجلاس کے بعد کی گئی جس میں حماس کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اسرائیل ماضی میں فلسطینی شدت پسندوں کی طرف سے جنگ بندی کی تمام پیش کشیں یہ کہہ کر ٹھکراتا رہا ہے کہ وہ’ دشت گرد تنظیموں‘ کے ساتھ معاہدے کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ اس سال جون سے لے کر اب تک اسرائیل چار سو کے قریب فلسطینیوں کو ہلاک کر چکا ہے جن میں نصف تعداد شہریوں کی تھی۔ اسرائیل کے حملوں کے رد عمل میں گزشتہ روز ایک ستاون سالہ فلسطینی خاتون نے اسرائیل فوجی چوکی پر خود کش حملہ کرکے تین اسرائیلی فوجی معمولی زخمی ہو گئے تھے۔ جمعرات کو غزہ پر اسرائیلی حملے میں پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیل نے غزہ میں یہودی آبادیاں اور فوجی چوکیاں گزشتہ سال ختم کر دی تھیں لیکن جون میں ایک اسرائیلی فوجی کے اغواء ہوجانے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ فلسطینی راکٹ حملوں میں اب تک تین اسرائیلی فوجی اور دو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں غزہ: مزید چار فلسطینی ہلاک12 October, 2006 | آس پاس اسرائیلی کارروائی میں چار ہلاک13 October, 2006 | آس پاس غزہ: سپینی فوٹوگرافر کی رہائی24 October, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ میں طلبہ ہلاک06 November, 2006 | آس پاس بیت حانون جنازوں میں ہزاروں شرکاء09 November, 2006 | آس پاس غزہ حملوں کاجواب: فلسطین کی امداد 13 November, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملے میں پانچ فلسطینی زخمی19 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||