بیت حانون جنازوں میں ہزاروں شرکاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو غزہ میں اسرائیلی گولہ باری میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ افراد کے جنازوں میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور اس دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ غم سے نڈھال فلسطینیوں نے سٹریچروں پر رکھی ہوئی میتیوں کو فلسطین کے سیاسی اور عسکری گروپوں کے نمائندہ پرچموں میں لپیٹا ہوا تھا۔ جنازوں میں ایک شخص نے دو بچوں کی میتیں اٹھائی ہوئی تھیں جو فلسطینی پرچموں کی بجائے روائیتی سفید کفنوں میں لپٹی ہوئی تھیں۔ ان افراد کی نماز جنازہ بیت حانون کے ایک سِرے پر واقع قبرستان میں پڑھائی گئی جو اس جگہ سے دور نہیں جہاں بدھ کو یہ افراد ایک گھر میں بیٹھے تھے جب وہ اسرائیلی گولہ باری کا نشانہ بنے۔ اسرائیل کے ہاتھوں ان ہلاکتوں کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔ برطانیہ، یورپی یونین اور عرب لیگ نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا عام اجلاس بھی ہو رہا ہے جس میں غزہ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر غور کیا جائے گا۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت نے بھی بدھ کی اٹھارہ ہلاکتوں پر اظہار معذرت کیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق واقعہ کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ بدھ کو ہسپتال کے ذرائع نے بتایا تھا کہ مرنے والے تیرہ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ ہلاک شدگان میں دو خواتین اور چھ بچے شامل تھے۔ اس حملے کی ویڈیو تصاویر عرب ممالک میں ٹی وی پر دکھائی گئی ہیں اور حماس کے ایک سینئر رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ اس کی جوابی کارروائی ہونی چاہیے۔ حماس کے رہنما اسمعیل ہنیہ نے اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطینی رہنماؤں نے کہا ہے کہ اس پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانا ضروری ہے۔ محمود عباس نے اس واقعہ کے بعد تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی بیت حانون کے لیے ایک ملین ڈالر ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔ |
اسی بارے میں اسرائیلی حملہ میں طلبہ ہلاک06 November, 2006 | آس پاس اسرائیلی کارروائی میں چار ہلاک13 October, 2006 | آس پاس غزہ: بیت حانون کا محاصرہ ختم03 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||